صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو ایک عہد ساز اور تاریخ ساز رہنما تھے جن کی قیادت نے پاکستان کی قومی سیاست، آئینی ڈھانچے اور عوامی شعور پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو کے 98ویں یومِ پیدائش کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد انصاف، مساوات اور عوامی بالادستی کے وژن پر رکھی گئی، جس کی عملی تعبیر شہید بھٹو کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ انہوں نے 1973 کے آئین کو بھٹو شہید کا تاریخی کارنامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آئین آج بھی قومی وحدت اور جمہوری تسلسل کی علامت ہے۔
مزید پڑھیں:امتحانی پرچے میں ذوالفقار علی بھٹو کی تعلیمی پالیسی سے متعلق سوال، معاملہ اسمبلی پہنچ گیا
صدر زرداری نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے محروم اور پسماندہ طبقات کو آواز دی اور ان کے حقوق کے لیے عملی جدوجہد کی۔ زرعی اصلاحات اور مزدور دوست پالیسیوں کے ذریعے عام آدمی کو بااختیار بنایا گیا، جو ان کی عوام دوست سوچ کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے کلیدی معمار بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو ہیں، جنہوں نے ملک کی خودمختار دفاعی صلاحیت کی بنیاد رکھی اور پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔ آزاد اور خوددار خارجہ پالیسی بھٹو شہید کی مدبرانہ قیادت کا مظہر تھی، جس کی مثال 1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس ہے، جس نے عالمِ اسلام کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا۔
مزید پڑھیں:سماجی کاموں سے سیاست میں قدم رکھنے والے ذوالفقار علی بھٹو جونئیر کون ہیں؟
صدرِ مملکت نے اس موقع پر قومی اتفاقِ رائے اور عوامی شمولیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج قوم کو درپیش چیلنجز کا حل اتحاد، جمہوری اقدار اور عوام کی خدمت میں مضمر ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ شہید بھٹو کے جمہوری، روشن اور ترقی یافتہ پاکستان کے وژن کو آگے بڑھایا جائے گا۔
صدر زرداری نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی میراث امن، خوشحالی اور قومی اتحاد کی رہنمائی کرتی رہے گی اور آنے والی نسلیں ان کے افکار سے رہنمائی حاصل کرتی رہیں گی۔














