سعودی عرب کے خادم الحرمین الشریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز، اور ان کے صاحبزادے ولی عہد اور وزیرِ اعظم محمد بن سلمان، نے غزہ کی پٹی میں انسانی صورتحال کے پیشِ نظر ہوائی، بحری اور زمینی امدادی کارروائیوں میں تیزی لانے کی ہدایت دی ہے۔ یہ اقدامات سعودی مہم برائے فلسطینی عوام کی مدد کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی (SPA) کو دیے گئے بیان میں خادم الحرمین الشریفین ہمدردی اور امداد مرکز (KSrelief) کے نگران جنرل ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز الربیعہ نے کہا کہ یہ ہدایت سعودی عرب کی طویل المدتی انسانی خدمات کا تسلسل ہے اور مختلف بحرانوں میں فلسطینی عوام کی مدد کے لیے جاری رکھی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کنگ سلمان ایئربیس پر نئی سہولتوں کا افتتاح کردیا
انہوں نے واضح کیا کہ فلسطین ہمیشہ سعودی قیادت، حکومت اور عوام کے دلوں میں مضبوطی سے موجود رہے گا۔ ڈاکٹر الربیعہ نے خادم الحرمین الشریفین اور ولی عہد کے اس سخاوت بھرے انسانی اقدام پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امداد کا جذبہ سعودی عوام میں ایک دیرپا اور مضبوط روایت ہے، جو ہر حال میں قائم رہتی ہے۔
سعودی عرب نے KSrelief کے ذریعے ہوائی اور بحری رابطہ قائم کر رکھا ہے تاکہ فلسطینی عوام تک امداد پہنچائی جا سکے۔ اب تک 77 طیارے اور 8 جہاز 7,600 ٹن سے زائد خوراک، طبی سامان اور رہائشی اشیاء پہنچا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ 912 سعودی امدادی ٹرک غزہ پہنچ چکے ہیں، جبکہ فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کو 20 ایمبولینسز فراہم کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب اور پاکستان کسی بھی جارح کیخلاف ہمیشہ ایک رہیں گے، سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان
مزید برآں، مرکز نے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ معاہدے کیے ہیں تاکہ غزہ میں 90.35 ملین ڈالر مالیت کے امدادی منصوبے نافذ کیے جا سکیں۔ اردن کے تعاون سے ایئر ڈراپ آپریشنز بھی کیے گئے تاکہ بند گزرگاہوں کو بائی پاس کرکے امداد بروقت فراہم کی جا سکے۔
یہ اقدامات سعودی عرب کی فلسطینی عوام کے ساتھ تاریخی وابستگی اور ہمدردی کا مظہر ہیں، جو ہر بحران میں مضبوطی سے قائم رہتی ہے۔














