آپ ایک سوال کرتے ہیں اور چیٹ جی پی ٹی فوری جواب دے دیتا ہے جس سے سب کچھ منظم اور آسان لگتا ہے لیکن نئی تحقیق کے مطابق یہ سہولت درحقیقت آپ کے علم کو کمزور کر سکتی ہے۔ جو لوگ اے آئی پر انحصار کرتے ہیں وہ کم محنت کرتے ہیں، ان کے سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور آسانی کے یہ فوائد درحقیقت علم کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
ایک نئی تحقیق کے مطابق جب لوگ کسی موضوع پر معلومات کا خلاصہ حاصل کرنے کے لیے بڑے لینگویج ماڈلز پر انحصار کرتے ہیں تو وہ عام گوگل سرچ کے ذریعے سیکھنے کے مقابلے میں اس موضوع پر کم گہرا علم حاصل کرتے ہیں۔ اس تحقیق میں سات مطالعات اور 10,000 سے زائد شرکاء کے ڈیٹا پر مبنی نتائج شائع کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کون سا اے آئی چیٹ بوٹ حساب کتاب میں سب سے زیادہ درست ہے؟
مطالعات میں شرکاء کو مختلف موضوعات جیسے سبزیوں کے باغ کی دیکھ بھال کے بارے میں سیکھنے کے لیے دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ نے ChatGPT استعمال کیا اور دوسرا گروپ روایتی گوگل سرچ پر انحصار کیا۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ LLM استعمال کرنے والے شرکاء نے کم معلومات حاصل کیں۔ اپنی مشورہ لکھنے میں کم محنت کی اور ان کے مشورے مختصر، عمومی اور کم حقائق پر مبنی تھے۔
جب یہ معلومات آزاد قارئین کے سامنے پیش کی گئیں تو اسے کم معلوماتی اور کم مددگار قرار دیا گیا۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ LLM کے ذریعے حاصل شدہ خلاصہ صارف کو کم معلومات فراہم کرتا ہے جس سے علم کی گہرائی متاثر ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی صارفین کیا تلاش کرتے ہیں؟ اوپن اے آئی کا بڑا انکشاف
اس تحقیق میں یہ بھی ثابت کیا گیا کہ حتیٰ کہ اگر حقائق اور پلیٹ فارم ایک جیسے رکھے جائیں، LLM کے ذریعے حاصل کردہ معلومات خود سے تحقیق کرنے کے مقابلے میں کم گہری سمجھ بوجھ فراہم کرتی ہیں۔
پروفیسرز کے مطابق یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ AI کی آسان رسائی کے باوجود صارفین کو معلومات کو خود تلاش، تجزیہ اور مرتب کرنے کی عادت برقرار رکھنی چاہیے تاکہ حقیقی اور پائیدار علم حاصل ہو سکے۔













