کے پی کے وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی 26 دسمبر 2025 کو پی ٹی آئی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی سے ملاقات کے لیے اپنی کابینہ کے ساتھ پنجاب اسمبلی آئے، اسمبلی کے اندر داخل ہونے کے وقت ہلڑ بازی ہوئی اور ہنگامہ آرائی کے کچھ واقعات سامنے آئے، جس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے تحقیقات کروانے کا حکم دیا تھا۔ تحقیقاتی ٹیم نے رپورٹ مکمل کرلی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے اندر داخل ہوتے وقت کے پی کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ساتھ آئے ہوئے لوگوں نے ہنگامہ آرائی اور ہلڑ بازی کی۔
رپورٹ کے مطابق، ہلڑبازی کرنے والوں کی شناخت ویڈیوز کے ذریعے کی گئی۔ پنجاب اسمبلی کے ملازمین اور عینی شاہدین کے بیانات بھی رپورٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غیر متعلقہ اور سزا یافتہ افراد بھی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ہمراہ اسمبلی میں داخل ہوئے۔ وزیراعلیٰ کی آمد کے موقع پر اسمبلی اسٹاف کی جانب سے تحمل سے شناخت کروانے کا کہا گیا، لیکن سیکیورٹی ملازمین کو دھکے دیے گئے۔
مزید پڑھیں: وزیر اعلٰی خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی 9 جنوری کو کراچی جائیں گے
تحقیقاتی رپورٹ آئی جی پنجاب کو مزید کارروائی کے لیے بھجوائی دی گئی ہے جس کے ساتھ ضروری دستاویزات، ویڈیوز اور دیگر ثبوت بھی منسلک کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کیخلاف قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
سہیل آفریدی کا یہ دورہ سرکاری نہیں تھا اور انہیں کسی سرکاری دعوت پر نہیں بلایا گیا تھا۔ تاہم، وہ اپنے جتھے کے ہمراہ اسمبلی پہنچے، جہاں سیکیورٹی عملے کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔ اسمبلی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کے ساتھ آنے والے کچھ افراد کی لسٹ نہیں دی گئی تھی، جس پر شناخت کی کوشش کی گئی، لیکن انہیں روکنے کی کوشش میں ہنگامہ آرائی ہوئی۔ ایک شخص، مطیع اللہ برقی، نے مبینہ طور پر جعلی شناخت کے ذریعے داخل ہونے کی کوشش کی، جو تصادم کا سبب بنا۔
رپورٹ میں ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کیخلاف قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب کو رپورٹ بھجوا دی گئی ہے۔ رپورٹ ملنے کے بعد وزیراعلیٰ کے پی کے کے ہمراہ آئے لوگوں پر مقدمات درج کیے جا سکتے ہیں۔
سہیل آفریدی کا مریم نواز کو خط
سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ایک خط لکھا، جس میں انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے ‘غیر معمولی اور ضرورت سے زیادہ سیکیورٹی’ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انتظامات خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بنے اور ان کے ساتھ ‘ناروا سلوک’ کیا گیا۔
مزید پڑھیں: لیڈر کی ہدایات پر من و عن عمل کروں گا، مجھ سے منسوب خبریں ذاتی قیاس آرائیاں ہیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
خط میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ ان کے دورے کے دوران لاہور کے فوڈ اسٹریٹ پر تمام ریستوران بند کر دیے گئے، جو انہیں ناروا سلوک کا حصہ لگا۔ سہیل آفریدی نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کے خلاف منشیات سے متعلق ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے، جو سیاسی انتقام کا حصہ ہے۔
پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان نے واقعے کی مذمت کی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو رپورٹ بھجوانے کا حکم دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی میں غیر مجاز داخلہ اور سیکیورٹی کی خلاف ورزی کی گئی، جس کی وجہ سے قواعد معطل کرنا پڑے۔ واقعے کے دوران صحافیوں کے ساتھ بھی مبینہ بدسلوکی ہوئی، جس پر پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے احتجاجاً اسمبلی سے واک آؤٹ کیا اور اپوزیشن لیڈر کو ہتک عزت کا نوٹس بھجوانے کا اعلان کر رکھا ہے۔














