سرسبز و شاداب پہاڑیوں، کشادہ سڑکوں اور گھنے درختوں کی وجہ سے دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں شمار ہونے والا دارالحکومت اسلام آباد آج تیزی سے کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ بے ہنگم تعمیرات، درختوں کی کٹائی اور ناقص منصوبہ بندی نے شہر کی قدرتی شناخت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران اسلام آباد میں کمرشل پلازوں، ہاؤسنگ سوسائٹیز اور سڑکوں کے پھیلاؤ نے سبزہ زاروں اور جنگلاتی رقبے کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔ شہر کی وہ پہچان جو کبھی صاف فضا، ٹھنڈے موسم اور قدرتی حسن سے جڑی تھی اب دھول، ٹریفک اور سیمنٹ کے ڈھانچوں میں گم ہوتی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں جنگلات کا تحفظ، پہلی مرتبہ اے آئی کا استعمال اور جدید سیٹلائٹ مانیٹرنگ کا آغاز
جہاں ایک طرف ماہرینِ ماحولیات خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو نہ صرف شہر کا حسن متاثر ہوگا بلکہ فضائی آلودگی، درجۂ حرارت میں اضافہ اور پانی کے ذخائر پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے وہیں شہری حلقے بھی اس بارے میں بات کرتے نظر آتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ترقی کے نام پر فطرت کی قربانی دینے کے بجائے پائیدار منصوبہ بندی کو ترجیح دی جائے اور ہریالی کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
صحافی رؤف کلاسرا نے لکھا کہوفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا سلامت رہیں اگرچہ ان دونوں نے اسلام آباد کے خوبصورت جنگل، درخت سبزہ کچھ بھی سلامت نہیں رہنے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: جنگلات میں 18 فیصد کمی، پاکستان قدرتی آفات کے رحم و کرم پر
ان کا مزید کہنا تھا کہ پتہ نہیں یہ کیسے لوگ ہیں، کہاں سے آئے ہیں اور کس مشن پر ہیں۔ بہرحال یہ طے ہے ان دونوں اچھے اور خوبصورت نوجوان وزیر کے ہوتے اسلام آباد کے جنگلوں سبزے درختوں کی خیر نہیں ہے۔
اسلام آباد کو کیسے برباد کیا جارہا ہے۔۔ یہ چار ویڈیوز دیکھ لیں۔
محسن نقوی اور محمد علی رندھاوا سلامت رہیں اگرچہ ان دونوں نے اسلام آباد کے خوبصورت جنگل، درخت سبزہ کچھ بھی سلامت نہیں رہنے دیا۔۔
پتہ نہیں یہ کیسے لوگ ہیں۔۔ کہاں سے آئے ہیں۔۔ کس مشن پر ہیں۔ بہرحال یہ طے ہے ان دونوں… pic.twitter.com/jH0zMofONI— Rauf Klasra (@KlasraRauf) January 5, 2026
شبیر ڈار نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ شہر کو گنجا کرکے کمشنر و چیئرمین رندھاوا صاحب تو ٹک ٹاک پر ایسے انٹریاں مار رہے ہیں جیسے بیوروکریسی میں دور دور تک انکا کوئی مقابلہ نہیں۔
شہر کو گنجا کرکے کمشنر و چیئرمین @CDAthecapital رندھاوا صاحب تو ٹک ٹاک پر ایسے انٹریاں مار رہے ہیں جیسے بیوروکریسی میں دور دور تک انکا کوئی مقابلہ نہیں۔ https://t.co/qar6hhfYle pic.twitter.com/tuDrrG7Awh
— Shabbir Dar (@ShabbirDar5) January 4, 2026
صحافی عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کبھی خوبصورت شہر تھا بدقسمتی سے اب کنکریٹ کا جنگل ہے اور کوڑا جا بجا بکھرا ہواہے۔ انہوں نے کہا کہ جس اسلام آباد میں ہمارا بچپن گزرا وہ صاف ستھرا، ہرا بھرا اور خوشبو سے معمور تھا۔ اب حالت یہ ہے کہ درخت کٹ چکے ہیں اور صفائی کا مناسب انتظام بھی نہیں رہا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بربادی کی ایک وجہ بے پناہ آبادی میں اضافہ بھی ہے گزشتہ دس برسوں میں اسلام آباد تیز ترین رفتار سے آباد ہونے والا شہر تاہم سی ڈی اے جیسا مالدار ادارہ اس کا بہتر انتظام کر سکتا ہے جو نہیں ہو رہا اس کے حسن کو بچانے کے لیے ہم سب کو آگے بڑھنا پڑے گا۔
اسلام آباد کبھی خوبصورت شہر تھا بدقسمتی سے اب کنکریٹ کا جنگل ہے اور کوڑا جا بجا بکھرا ہوا۔جس اسلام آباد میں ہمارا بچپن گُزرا وہ صاف ستھرا ، ہرا بھرا اور خوشبو سے معمور تھا۔ اب حالت یہ ہے کہ درخت کٹ چُکے ہیں اور صفائی کا مناسب انتظام بھی نہیں رہا۔اس بربادی کی ایک وجہ بے پناہ آبادی… https://t.co/4nbwyG3xBC
— Asma Shirazi (@asmashirazi) January 4, 2026
عمر چیمہ نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ لوک ورثہ اور شکرپڑیاں کے درمیان والی جگہ ہے کچھ عرصہ پہلے تک یہاں گھنے جنگلات تھے اب اس علاقے کو بھی گنجا کر دیا گیا ہے۔
یہ لوک ورثہ اور شکرپڑیاں کے درمیان والی جگہ ہے کچھ عرصہ پہلے تک یہاں گھنے جنگلات تھے اب اس علاقے کو بھی گنجا کر دیا گیا ہے @RandhawaAli pic.twitter.com/k8UaPxz9eA
— Umar Cheema (@UmarCheema1) January 4, 2026
واضح رہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 1992 سے اب تک جنگلات کے رقبے میں 18 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جس سے ماحولیات، معیشت اور قومی سلامتی پر براہِ راست خطرات منڈلا رہے ہیں۔
1992، 2010 اور 2025 کے ہلاکت خیز سیلاب اس بات کا ثبوت ہیں کہ جنگلات اور چراگاہوں کی بربادی نے بالائی علاقوں کے واٹر شیڈز کو ’فلڈ فیکٹریاں‘ بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا: جنگلات کی غیر قانونی کٹائی سیلاب کی بڑی وجہ، حکومتی پالیسی کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق جنگلات صرف درخت نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ماحولیاتی و معاشی ڈھال ہیں جو بارش کا پانی جذب کرتے، زیرِ زمین پانی ری چارج کرتے، زرعی زمین کو کٹاؤ سے بچاتے اور حیاتیاتی تنوع کی حفاظت کرتے ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کو بار بار اور زیادہ تباہ کن ماحولیاتی آفات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ محض شجرکاری مہمات کافی نہیں بلکہ ٹمبر مافیا کے خلاف سخت کارروائی، جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے نظام اور کمیونٹی کی شمولیت کے ساتھ ایک جامع پالیسی ناگزیر ہے۔














