گرینڈ الائنس آف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز سندھ نے محکمہ اینٹی کرپشن کی جانب سے نجی تعلیمی اداروں میں جاری تصدیقی کارروائیوں کے خلاف کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ رہنماؤں نے وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ عدالتی فیصلے پر باوقار اور مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:نجی اسکولز کی من مانی، محکمہ تعلیم کے احکامات ہوا میں اڑا دیے
گرینڈ الائنس آف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز سندھ کے رہنماؤں کی جانب سے پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے، مگر سندھ میں لاکھوں بچے آج بھی اسکول سے باہر ہیں۔ ایسے حالات میں نجی تعلیمی ادارے محدود وسائل کے باوجود کم فیسوں پر لاکھوں بچوں کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں اور سماجی ذمہ داری کے تحت فری شپ بھی دے رہے ہیں۔
رہنماؤں کے مطابق سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کے 8 دسمبر 2025 کے فیصلے کے تحت ریجنل ڈائریکٹرز کی جانب سے جمع کرائی گئی فری شپ فہرستوں کی تصدیق کی ذمہ داری اینٹی کرپشن کو دی گئی، جس کے بعد اینٹی کرپشن ٹیموں نے براہِ راست اسکولوں میں معائنے شروع کر دیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ عمل سندھ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز ایکٹ 2013 کے منافی ہے کیونکہ اس قانون کے تحت ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز ہی واحد مجاز ریگولیٹری اتھارٹی ہے، لہٰذا کسی دوسرے ادارے کی مداخلت غیر قانونی اور غیر ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے ہزاروں سرکاری اسکول پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے، اساتذہ میں بے چینی
پریس کانفرنس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ اسکولوں میں خواتین اساتذہ اور کم عمر بچے موجود ہوتے ہیں اور اینٹی کرپشن کی تفتیشی کارروائیاں خوف، ذہنی دباؤ اور اضطراب کا باعث بن رہی ہیں۔ مسلح اہلکاروں کا مخصوص انداز میں اسکولوں میں داخل ہونا تعلیمی ماحول کے لیے ناموزوں ہے، جبکہ والدین کو غیر ضروری سوال و جواب اور مطالبات سے شدید پریشانی کا سامنا ہے، حالانکہ والدین کی جانب سے ڈیٹا اور انڈرٹیکنگ اور اسکولوں کی جانب سے فہرستیں پہلے ہی متعلقہ اداروں کو فراہم کی جاچکی ہیں۔
رہنماؤں نے کہا کہ اس طرزِ عمل سے سندھ کے نامور تعلیمی اداروں، فلاحی تنظیموں اور دہائیوں سے خدمات انجام دینے والے نجی اسکولوں کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ اگر کہیں انفرادی سطح پر کوئی خامی موجود ہے تو اسے پورے نجی تعلیمی شعبے کے خلاف استعمال کرنا ناانصافی ہے۔
گرینڈ الائنس نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری کردار ادا کریں اور اینٹی کرپشن کو ہدایت دیں کہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لیے باوقار طریقۂ کار اپنایا جائے، جس کے تحت تصدیقی عمل ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کے ذریعے مکمل کیا جائے اور اسکولوں میں براہِ راست کارروائیوں سے گریز کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پرائیویٹ اسکولز بدھ کے روز کھلیں گے یا نہیں؟ ایسوسی ایشن کے دو دھڑوں میں اختلاف
آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے بتایا گیا کہ تصدیقی عمل کے خلاف معزز عدالت میں نئی درخواست دائر کی جائے گی، 6 سے 8 جنوری تک سندھ بھر میں والدین اور اسکول انتظامیہ کے مشترکہ احتجاجی اجلاس ہوں گے، 8 جنوری کو یومِ سیاہ منایا جائے گا جبکہ 9 جنوری کو سندھ بھر کے تمام نجی اسکولوں اور کالجوں کی مکمل ہڑتال کی جائے گی۔












