انسدادِ دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے 26 نومبر کے احتجاج کے حوالے سے درج مقدمے میں علیمہ خان کی جانب سے دائر کی گئی بریت کی درخواست مسترد کردی۔
عدالت نے اس کیس سے متعلق محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا، جس میں ملزمہ کی درخواست کو خارج کردیا گیا۔
مزید پڑھیں: عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، علیمہ خان کا اڈیالہ جیل کے باہر دعاؤں کے اہتمام کا اعلان
درخواستِ بریت پر سماعت انسدادِ دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔
سماعت کے دوران علیمہ خان کی جانب سے وکیل فیصل ملک نے مؤقف اختیار کیاکہ مقدمہ قانونی بنیادوں سے محروم ہے اور یہ محض سیاسی انتقامی کارروائی کا نتیجہ ہے۔
دوسری جانب پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کے خلاف انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی 5 شقوں کے تحت فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے، جو تفتیشی رپورٹ کی بنیاد پر قائم کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقدمے میں شامل شواہد اور مواد کے مطابق فردِ جرم عائد کرنا قانون کے مطابق ہے۔
پراسیکیوٹر نے مزید مؤقف اختیار کیاکہ سیاسی نوعیت کے احتجاج میں تمام تر کنٹرول اور ذمہ داری منتظمین کے پاس ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ تھیوری آف کنٹرول کے تحت کسی بھی ایسے احتجاج میں منتظمین کو تمام معاملات کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: مذاکرات کی بات کرنے والا عمران خان کی پارٹی کا نہیں ہو سکتا، علیمہ خان
ان کے مطابق احتجاج کے منتظمین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ لوگ ان کی ہدایت پر باہر نکلے، تاہم عدالت کے روبرو اس مؤقف کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد علیمہ خان کی درخواستِ بریت خارج کرنے کا حکم جاری کر دیا، جس کے بعد مقدمہ مزید قانونی کارروائی کے لیے آگے بڑھے گا۔














