امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ رواں ہفتے امریکی آئل کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران سے ملاقاتوں کا منصوبہ بنا رہی ہے، جن میں وینزویلا میں تیل کی پیداوار بڑھانے پر غور کیا جائے گا۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ ملاقاتیں اس لیے اہم ہیں کہ امریکی افواج کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی معزولی کے بعد ٹرمپ انتظامیہ جنوبی امریکی ملک میں دوبارہ امریکی آئل کمپنیوں کی واپسی کی خواہاں ہے۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ زہران ممدانی کے لیے کیا چیلنجز پیدا کرسکتے ہیں؟
تاہم، امریکا کی 3 بڑی آئل کمپنیاں ایکسن موبل، کونوکو فلپس اور شیورون کا کہنا ہے کہ مادورو کی گرفتاری سے قبل یا بعد میں وائٹ ہاؤس کے ساتھ ان کی کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہوئی، جو صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے برعکس ہے۔
ماہرین کے مطابق وینزویلا میں تیل کی پیداوار اور برآمدات میں نمایاں اضافے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور کئی سال درکار ہوں گے، کیونکہ ملک کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو چکا ہے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی آئل انڈسٹری وینزویلا میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے، تاہم کمپنیوں نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
مزید پڑھیں: نیتن یاہو کل امریکا کا دورہ کریں گے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع
ادھر سرمایہ کاروں نے امریکی اقدام کو مثبت قرار دیتے ہوئے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھا دی، جس کے نتیجے میں امریکی اسٹاک مارکیٹ میں توانائی سے وابستہ کمپنیوں کے شیئرز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔














