ایران میں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ماہانہ الیکٹرونک امداد کے باوجود مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جبکہ حکومت اور مظاہرین کے درمیان محدود سطح پر مذاکرات کے ابتدائی رابطے شروع ہو گئے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے ایک اعلیٰ سطحی اقتصادی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو سبسڈی میں اضافے، تنخواہوں کی نظرِ ثانی اور کرنسی مارکیٹ کو کنٹرول کرنے کے فوری اقدامات تجویز کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران میں مظاہرے: امریکی مداخلت پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دے گی، علی لاریجانی
ادھر سکیورٹی فورسز کی اضافی تعیناتی برقرار ہے اور انٹرنیٹ سروسز جزوی طور پر محدود کر دی گئی ہیں، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر معاشی ریلیف کے عملی نتائج جلد سامنے نہ آئے تو احتجاج ایک بار پھر شدت اختیار کر سکتا ہے۔
ایسی صورت میں ایران کو اندرونی عدم استحکام اور بیرونی دباؤ، خصوصاً امریکا اور اسرائیل کی جانب سے، دونوں محاذوں پر سخت فیصلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
At least 35 people have been killed and 1,200 detained in Iran’s economic protestshttps://t.co/whlfALQYig pic.twitter.com/qDATQdFDvz
— The Washington Times (@WashTimes) January 6, 2026
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملکی مالیاتی نظام کو مستحکم کرنے کے لیے مکالمے پر زور دیتے ہوئے معاشی اصلاحات کا وعدہ کیا ہے۔
جبکہ ان کی حکومت نے شہریوں کے لیے ایک نئی ماہانہ امداد کا اعلان کیا ہے، یہ اقدام گزشتہ 3 برسوں میں بدترین عوامی بے چینی کو کم کرنے کی براہِ راست کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق 10 جنوری سے حکومت ہر فرد کو 10 ملین ریال تقریباً 7 امریکی ڈالر کے مساوی الیکٹرونک کریڈٹ فراہم کرے گی، جو مخصوص کریانہ اسٹورز پر استعمال کیا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں: ایران کو سنگین بحرانوں کا سامنا: مغربی میڈیا کا آیت اللہ خامنہ ای کے متبادل منصوبے کا انکشاف
یہ اقدام کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے ہے، جہاں ماہانہ تنخواہیں بمشکل 150 ڈالر سے زائد ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران کی قیادت شدید معاشی بحران کے باعث پھیلتے مظاہروں پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس صورتحال کو وینزویلا میں امریکی فوجی مداخلت کے سائے نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

حکام کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مظاہرین کی حمایت میں مداخلت کی دھمکی نے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کو دبانے کی کوششوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
3 جنوری کو امریکی خصوصی فورسز کی جانب سے مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری سے ایک دن قبل،صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر خبردار کیا تھا کہ اگر ایرانی قیادت 28 دسمبر سے سڑکوں پر نکلنے والے مظاہرین کو قتل کرتی ہے تو امریکا ان کی مدد کو آئے گا۔
تہران سے شروع ہو کر مغربی اور جنوبی شہروں تک پھیلنے والے یہ مظاہرے 23-2022 کی ملک گیر بے چینی جتنے وسیع نہیں، مگر انہوں نے تیزی سے معاشی مطالبات سے بڑھ کر مجموعی عوامی ناراضی کی شکل اختیار کر لی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران میں پرامن مظاہرین پر تشدد ہوا تو امریکا مداخلت کرے گا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ
یہ صورتحال حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جو گزشتہ سال ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے دوران اور اس کے بعد ابھرنے والے قومی اتحاد کے جذبے کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ تہران میں خدشات بڑھ رہے ہیں کہ ٹرمپ یا اسرائیل جون کی طرح کوئی فوجی کارروائی کر سکتے ہیں۔
ایران کی معیشت برسوں سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہے، تاہم ان حملوں کے بعد ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں شدید کمی آئی ہے۔
NYT: Iran Offers Citizens $7 a Month in a Bid to Cool Protestshttps://t.co/lIJNMt23pi
— OSZ (@OpenSourceZone) January 6, 2026
2025 میں ریال ڈالر کے مقابلے میں تقریباً نصف رہ گیا، جبکہ دسمبر میں سرکاری افراطِ زر 42.5 فیصد تک پہنچ گیا۔
قیادت کی تشویش کے اظہار کے طور پر، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہفتے کے روز اسلامی جمہوریہ کے دشمنوں پر بدامنی پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ فساد کرنے والوں کو ان کی جگہ دکھائی جانی چاہیے۔
حکام نے دوہری حکمتِ عملی اپنائی ہے، ایک طرف معاشی مسائل پر احتجاج کو جائز قرار دے کر مذاکرات کی یقین دہانی کرائی، جبکہ دوسری جانب بعض مظاہروں کو تشدد کے دوران آنسو گیس سے منتشر کیا گیا۔
مزید پڑھیں: ایران کی طرف بڑھنے والا ہاتھ کاٹ دیں گے، ٹرمپ کی دھمکیوں پر ایران کا سخت ردعمل
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایک ہفتے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کے کم از کم 2 اہلکار ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
جمعے کے روز ٹرمپ نے ایک بار پھر تشدد کی صورت میں مداخلت کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ہم مکمل طور کارروائی کے لیے تیار بیٹھے ہیں، تاہم انہوں نے تفصیلات نہیں بتائیں۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کے اندرونی معاملات پر ٹرمپ کے بیانات بین الاقوامی اصولوں کے تحت تشدد، دہشت گردی اور قتل پر اکسانے کے مترادف ہیں۔
Protests are emerging again in Iran, this time triggered the county's economic freefall. And the site of the protests is the bazaar. The merchant class, traditionally conservative, is quite a significant stakeholder.
Something is brewing. Stay tuned.
— Kaveh Shahrooz کاوه شهروز (@kshahrooz) December 29, 2025
دریں اثنا، لندن سے شائع ہونے والے اخبار انڈیپنڈنٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ اگر احتجاجی تحریک سیکیورٹی فورسز پر حاوی ہو گئی تو ایران کے 86 سالہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای روس فرار ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں ایک انٹیلیجنس ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اگر یہ واضح ہو جائے کہ مظاہروں کو دبانے پر مامور فوج اور سیکیورٹی ادارے بغاوت کر رہے ہیں یا احکامات ماننے سے انکار کر رہے ہیں تو خامنہ ای تقریباً 20 معاونین اور اہلِ خانہ کے ساتھ تہران چھوڑ دیں گے۔













