پاکستان نے وینزویلا کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکطرفہ فوجی کارروائی اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مقدس اصولوں اور ریاستی خودمختاری کے نظریے کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے وینزویلا سے متعلق ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات خطرناک مثالیں قائم کرتے ہیں، جو عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس، چین اور روس کا وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کی رہائی کا مطالبہ
واضح رہے کہ امریکا نے 3 جنوری کی شب ایک کارروائی کے دوران وینزویلا پر حملہ کرتے ہوئے طویل عرصے سے برسراقتدار صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا تھا۔
حملے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ امریکی تاریخ میں طاقت اور صلاحیت کا ایک نہایت شاندار، مؤثر اور طاقتور مظاہرہ تھا۔
Statement by Ambassador Usman Jadoon
Acting Permanent Representative of Pakistan to the UN
At the UN Security Council Emergency Meeting on the Situation in Venezuela
(5 January 2026)
****Mr. President,
Allow me to begin by congratulating Somalia on its assumption of the… pic.twitter.com/Pox6F1qN2i
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) January 5, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ عبوری عمل مکمل ہونے تک امریکا تیل سے مالا مال اس ملک کا انتظام سنبھالے گا۔
اس سے قبل 15 رکنی سلامتی کونسل نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں اجلاس منعقد کیا، جو مادورو کی منشیات سے متعلق الزامات، بشمول نارکو دہشتگردی کی سازش، کے تحت مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں پیشی سے چند گھنٹے قبل ہوا۔
اس موقع پر سفیر عثمان جدون نے کہا کہ ایسے اقدامات عدم استحکام کو ہوا دیتے ہیں، جو تاریخ کے مطابق طویل عرصے تک غیر متوقع اور بے قابو نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
انہوں نے کہا کہ اس نازک مرحلے پر آگے بڑھنے کا راستہ مکالمے اور سفارت کاری سے ہو کر گزرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کا پائیدار حل صرف پرامن ذرائع سے ہی ممکن ہے، جس میں وینزویلا کے عوام کی آزاد مرضی کا مکمل احترام ہو اور کسی بھی بیرونی مداخلت سے گریز کیا جائے۔
پاکستانی مندوب نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں کمی لائیں، پرامن بقائے باہمی کو فروغ دیں۔
مزید پڑھیں:وینزویلا کی صورتحال پر نظر، پاکستانی شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات جاری ہیں، دفتر خارجہ
’ایسے کسی بھی اقدام سے باز رہیں جو صورتحال کو مزید بگاڑ دے، اور ثالثی کی مخلصانہ پیشکشوں سمیت مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔‘
سفیر عثمان جدون نے عالمی امن و سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے سلامتی کونسل کی بنیادی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں تعمیری کردار ادا کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ وینزویلا میں امن و استحکام اور اس کے عوام کی فلاح و بہبود، مکمل قومی خودمختاری کے ساتھ، تمام کوششوں کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیں: وینزویلا کی صورتحال پر نظر، پاکستانی شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات جاری ہیں، دفتر خارجہ
اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکی کارروائی کے بعد وینزویلا میں عدم استحکام میں ممکنہ اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔
ان کا بیان اقوامِ متحدہ کی سیاسی امور کی سربراہ روزمیری ڈی کارلو نے سلامتی کونسل میں پڑھ کر سنایا۔
’مجھے ملک میں عدم استحکام کے بڑھنے، اس کے خطے پر ممکنہ اثرات، اور ریاستوں کے باہمی تعلقات کے لیے قائم ہونے والی مثال پر گہری تشویش ہے۔‘
مزید پڑھیں: وینزویلا پر دوسرا امریکی حملہ ممکن ہے، صدر ٹرمپ کا اعلان
انہوں نے وینزویلا کے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ جامع اور جمہوری مکالمے میں شامل ہوں، انہوں نے وینزویلا کے عوام کو پرامن حل کی جانب بڑھنے میں مدد دینے کی تمام کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ہفتے کے روز کاراکاس میں نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کی امریکی کارروائی نے بین الاقوامی قانون کے اصولوں کا احترام نہیں کیا۔
’جارحیت کی کارروائی‘
سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست دینے والے ملک کولمبیا نے امریکی کارروائی کو وینزویلا کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
اقوامِ متحدہ میں کولمبیا کی سفیر لیونور زالاباتا ٹوریس نے اپنے خطاب میں کہا کہ کسی بھی صورت اور کسی بھی حالات میں یکطرفہ طاقت کے استعمال کے ذریعے جارحیت کی کارروائی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
مزید پڑھیں: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور اہلیہ نیویارک کی عدالت میں پیش، فرد جرم عائد
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق امریکی کارروائی غیر قانونی تھی کیونکہ اس کے لیے سلامتی کونسل کی اجازت حاصل نہیں کی گئی، نہ ہی وینزویلا کی رضامندی موجود تھی اور نہ ہی اسے کسی مسلح حملے کے خلاف دفاعِ ذات قرار دیا جا سکتا ہے۔













