وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے بیٹے نکولس مادورو گویرا نے پہلی بار عوامی طور پر وینزویلا کے قانون ساز محل میں امریکی فوجی کارروائی کے خلاف بات کی، جس کے نتیجے میں ان کے والد اور سوتیلی والدہ کو گرفتار کر لیا گیا۔
عوام میں ’نکولاسیٹو‘ کے نام سے معروف مادورو گویرا نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ مادورو اور فلورز کو فوری طور پر وینزویلا واپس بھیجا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کتنے فیصد امریکی وینزویلا کیخلاف صدر ٹرمپ کی کارروائی کے حامی نکلے؟
انہوں نے بین الاقوامی برادری سے بھی حمایت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم کسی سربراہ مملکت کے اغوا کو معمول سمجھ لیں، تو کوئی ملک محفوظ نہیں رہے گا۔
🚨🇻🇪 Maduro's son: "They are expecting a civil war. Will they achieve it? Will they divide us?"
Crowd: "No!"pic.twitter.com/gVXBM6xa0Y
— Jackson Hinkle 🇺🇸 (@jacksonhinklle) January 6, 2026
’آج وینزویلا کا نمبر آیا، کل یہ کسی بھی ایسے ملک کے ساتھ ہو سکتا ہے جو غلامی قبول کرنے سے انکار کرے۔ یہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سیاسی استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔‘
امریکی حکام نے صدر نکولس مادورو کے بیٹے پر بھی منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے ہیں، تاہم ان کی صحت سے انہوں نے انکار کیا ہے۔
مزید پڑھیں: وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
35 سالہ مادورو گویرا نے اپنے والد کے لیے محبت اور وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کے لیے حمایت کا بھی اظہار کیا، جو صدر مادورو کی اتحادی ہیں۔
’آپ کو دی جانے والی نہایت مشکل ذمہ داری کے لیے میرا غیر مشروط تعاون حاضر ہے، ہم پر بھروسہ کریں، ہمارے خاندان پر بھروسہ کریں، ہم درست اقدامات اٹھانے میں آپ کے ساتھ ہیں، جو اب آپ کی ذمہ داری ہے۔‘













