کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ بیرونِ ملک کا ڈرائیونگ لائسنس پاکستان میں کام آئے گا یا نہیں؟ دبئی یا کسی اور ملک سے لایا گیا لائسنس یہاں کی سڑکوں پر گاڑی چلانے کے لیے کیا واقعی قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے؟
ایسی ہی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں ٹریفک پولیس اہلکار نے اوور سیز پاکستانی کا چالان کر دیا اور کہا کہ پاکستان میں دبئی کا ڈرائیونگ لائسنس نہیں مانا جاتا آپ اسے صرف دبئی میں استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر ادھر گاڑی چلانی ہے تو پاکستان سے لائسنس لینا پڑے گا۔
پنجاب میں بیرون ملک (دبئی) کے ڈرائیونگ لائسنس پر گاڑی چلائی تو چالان ہو گا
ہم کوئی گرا ہوا ملک نہیں ہیں۔ ٹریفک وارڈن کا اوورسیز پاکستانی کا چالان pic.twitter.com/Tva6QVpz6k
— Ahmad Warraich (@ahmadwaraichh) January 5, 2026
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اتنا گرا ہوا ملک نہیں ہے، اگر دبئی پاکستان کا ڈرائیونگ لائسنس ہیں مانتا تو ہم بھی ان کا لائسنس نہیں مانتے۔ جس پر شہری نے اہلکار سے کہا کہ پھر آپ قانون کو فالو نہیں کر رہے۔ شہری کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا پاکستان کا لائسنس پاکستان میں کوئی نہیں مانتا تو وہاں کون مانے گا؟
سوشل میڈیا صارفین اس پر مختلف تبصرے کرتے نظر آئے۔ کئی صارفین نے کہا کہ کہاں پر ایسا قانون ہے کہ بیرون ملک کے بنے ہوئے لائسنس پر جو اوسیز یہاں آئے ہوئے ہیں وہ ڈرائیونگ نہیں کرسکتے؟ جبکہ کئی صارفین ٹریفل وارڈن کے حق میں بات کرتے ہوئے کہنے لگے کہ پاکستان کے اپنے قوانین ہیں اور اہلکار نے بالکل ٹھیک کیا ہے۔














