پاکستان میں پانی کے تنازعات عموماً دریاؤں، ڈیموں اور صوبوں کے درمیان معاہدوں تک محدود سمجھے جاتے ہیں، مگر گلیات سے مری تک بچھائی گئی واٹر پائپ لائن ایک ایسا معاملہ ہے جو آج محض انتظامی مسئلہ نہیں رہا بلکہ آئینی خودمختاری، بین الصوبائی انصاف، وفاقی مفادات اور انسانی حقِ حیات کا سنگین سوال بن چکا ہے۔
حالیہ دنوں میں اس تنازع نے ایک نیا رخ اس وقت اختیار کیا جب وفاقی حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے حدود بڑھانے اور پورے گلیات کو وفاقی دارالحکومت میں شامل کرنے کی تجویز سامنے آئی۔
یہ تجویز بظاہر ترقی، بہتر انتظام اور سیاحت کے فروغ کے نام پر پیش کی جا رہی ہے، مگر حقیقت میں اس کے پس منظر میں پانی، وسائل اور مالی واجبات کی ایک پیچیدہ سیاست کارفرما ہے، جسے نظرانداز کرنا قومی مفاد کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
نوآبادیاتی بنیاد، آئینی تسلسل
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ برطانوی دور میں، 1890 کی دہائی میں، مری کو موسمِ گرما کا دارالحکومت بنانے کے لیے گلیات کے قدرتی چشموں پر قبضہ کیا گیا۔
اس وقت نہ کوئی آئین موجود تھا، نہ صوبائی حدود کا تعین، اور نہ ہی مقامی آبادی کی رضامندی۔ طاقتور سامراج نے پہاڑی عوام کے قدرتی وسائل کو ریاستی مفاد کے نام پر استعمال کیا۔
بعد ازاں 1962 میں ہزارہ ہل ٹریکٹ امپروومنٹ ٹرسٹ اور مری انتظامیہ کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جس کے تحت گلیات کے چشموں سے مری کو پانی فراہم کیا گیا اور مقامی آبادی کے لیے محض 10 فیصد پانی مختص کیا گیا۔
یہ معاہدہ نہ صرف عارضی تھا بلکہ 1973 کے آئین سے قبل کا انتظامی بندوبست تھا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ آئین کے نفاذ کے بعد بھی اس معاہدے کو نہ تو مشترکہ مفادات کونسل (CCI) میں پیش کیا گیا، نہ اس پر نظرثانی ہوئی، اور نہ ہی صوبائی رضامندی دوبارہ حاصل کی گئی۔
زمینی حقیقت: پیاسا گلیات، سیراب مری
آج صورتحال یہ ہے کہ گلیات کے متعدد دیہات صاف پینے کے پانی سے محروم ہیں۔ خواتین اور بچے میلوں دور چشموں کی تلاش میں ہیں، جبکہ دوسری طرف مری کی ہوٹل انڈسٹری، ریزورٹس اور سیاحتی مراکز اسی پانی سے نہ صرف ضروریات پوری کر رہے ہیں بلکہ لگژری سہولیات اور سوئمنگ پولز چلا کر اربوں روپے کما رہے ہیں۔
گلیات کے سوشل ورکر جواد اللہ خان کے مطابق یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پانی خیبرپختونخوا کا ہے، استعمال پنجاب کا ہے، آمدن مری کی ہے، اور نقصان گلیات کا۔ اگر یہ استحصال نہیں تو اور کیا ہے؟
وفاقی حکومت کی نئی تجویز: گلیات کو اسلام آباد میں شامل کرنا
اس پس منظر میں وفاقی حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے حدود میں توسیع اور پورے گلیات کو وفاقی دارالحکومت میں شامل کرنے کی تجویز نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر گلیات کے عوام کی ایک بڑی تعداد اس تجویز پر خوش دکھائی دیتی ہے۔
مقامی آبادی اور نمائندوں کا کہنا ہے کہ وہ خیبرپختونخوا حکومت کے زیرِ انتظام گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی (GDA) کی ناقص کارکردگی سے نالاں ہیں۔
وفاق میں شمولیت سے براہِ راست فنڈنگ، بہتر انفراسٹرکچر اور سیاحت میں اضافہ ہوگا وہ اس شرط پر پانی کی رائلٹی کا مطالبہ بھی نہیں کریں گے کہ انہیں وفاقی دارالحکومت کا حصہ بنا لیا جائے۔
سکول ٹیچر جاوید اقبال عباسی کے مطابق اس فیصلے سے علاقائی خوشحالی، روزگار اور سیاحتی ترقی ممکن ہو سکے گی۔ یہ مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام انتظامی ناکامیوں سے کس قدر مایوس ہو چکے ہیں۔
اپوزیشن کا اعتراض، اصل مقصد رائلٹی سے بچاؤ؟
تاہم اپوزیشن جماعتیں اور آئینی ماہرین اس تجویز کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب حکومت دہائیوں سے گلیات کے پانی سے مستفید ہو رہی ہے۔
مری کو فراہم کیے جانے والے پانی پر نہ رائلٹی ادا کی گئی اور نہ واجبات کا تعین ہوا اسلام آباد میں شمولیت کا مقصد پنجاب حکومت کو بین الصوبائی پانی رائلٹی اور آئینی جوابدہی سے بچانا ہو سکتا ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ پہلے پانی کے واجبات، رائلٹی اور CCI منظوری کا واضح فیصلہ کرے۔ تاہم اپوزیشن کے نزدیک یہ تجویز مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے سے فرار کی ایک نئی صورت ہے۔
آئینی اور قانونی تناظر
آئینِ پاکستان اس معاملے پر بالکل واضح ہے۔ آرٹیکل 153 کے تحت پانی جیسے بین الصوبائی معاملات مشترکہ مفادات کونسل کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
آرٹیکل 172(3) قدرتی وسائل کو صوبوں کی ملکیت قرار دیتا ہے۔ جبکہ آرٹیکل 9 (حقِ حیات) صاف پانی تک رسائی کو بنیادی انسانی حق تسلیم کرتا ہے۔
ان آئینی شقوں کی موجودگی میں بغیر CCI منظوری، بغیر صوبائی رضامندی اور بغیر معاوضے پانی کی منتقلی واضح آئینی خلاف ورزی ہے—چاہے وہ پنجاب کو ہو یا وفاقی دارالحکومت کو۔
خیبرپختونخوا حکومت کا مؤقف
اس بار خیبرپختونخوا حکومت نے ماضی کی طرح خاموشی اختیار نہیں کی۔ وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا اور گلیات کے MPA رجب علی خان عباسی نے واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ صوبے کا پانی صوبے کی ملکیت ہے۔ CCI کے بغیر کوئی منتقلی غیر آئینی ہے، مقامی آبادی کا حق اولین ترجیح ہے۔
تاریخی معاہدوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے گا یہ مؤقف اس تنازع کو عدالتِ عظمیٰ اور وفاقی فورمز تک لے جا سکتا ہے۔
ترقی یا نیا استحصال؟
اگر یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچتا ہے تو فیصلہ صرف گلیات یا مری تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ یہ پورے پاکستان میں بین الصوبائی وسائل کی تقسیم وفاقی حدود میں توسیع کے اصول اور قدرتی وسائل پر صوبائی حق کا تعین کرے گا۔
آخر میں سوال نہایت سادہ مگر فیصلہ کن ہے
کیا گلیات کو وفاق میں شامل کرنا واقعی ترقی اور خوشحالی کا راستہ ہے، یا یہ پانی کی رائلٹی، آئینی ذمہ داری اور تاریخی ناانصافی سے بچنے کی ایک نئی حکمتِ عملی؟
کیا پاکستان وسائل کو آئین کے مطابق تقسیم کرے گا، یا سہولت اور طاقت کے مطابق؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














