وڈیروں کا چھوکرا ٹھیک ہی تو کہتا ہے کہ سب ختم ہو چکا، کچھ بھی باقی نہیں رہا- اس کا نکتہ ناقابل تردید ہے- کچھ بچا ہی نہیں تو اس کا جھٹلانا کیا خاک فائدہ دے گا-
حقیقت یہی ہے ایک لمبے عرصے سے، اور خاص طور پر گزشتہ پونے 4 سال سے، نوجوانوں کے ایک خاص گروہ کو جو جھوٹی امیدیں دلائی گئی تھیں، یکے بعد دیگرے دم توڑ رہی ہیں-
سب کچھ مٹھی کی ریت کی طرح قابو سے نکلتا جارہا ہے
اولا تو ہم 2018 سے قبل کے منظر نامے پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں- نوجوانوں کے اسی خاص گروہ کو امید دلائی گئی تھی کہ اس ملک میں ایک انوکھی طرح کی تبدیلی آنے کے بعد دودھ اور شہد کی نہریں ہی نہیں، دریا بہنے لگیں گے-
تعلیم، روزگار کوئی مسئلہ نہیں ہو گا- دو تین سالوں میں ہی وطن عزیز ایک خوش حال معاشرے میں ڈھل جائے گا- لیکن نامراد جرنیل کمر توڑ باجوہ نے ایسی ایسی سازشیں کی کہ تبدیلی کے نتیجے میں سامنے آنے والی انقلاب صفت قیادت اگست 2018 سے لے کر اپریل 2022 تک کچھ بھی نہ کر سکی-
کمر توڑ باجوہ کی سازشوں کے برے اثرات میں کمی لانے کے پیش نظر انقلاب پرور قیادت نے اسے دو مدتیں مکمل ہو جانے کے بعد مزید ایکسٹنشن دینے کی آفر بھی کی، حتی کہ تاحیات عہدے کی بھی، لیکن وہ کہاں ماننے والا تھا- اس کے ذہن میں تو بس سازش سمائی ہوئی تھی- وہ تو کچھ بڑا ہی سوچ رہا تھا-
اپریل 2018 میں انقلاب کی واحد امید قیادت کو امریکہ سے گٹھ جوڑ کر کے اتارا گیا تو اسی نوجوان نسل سے وعدہ کیا گیا کہ گھبرائیں نہیں، نیا انتظام چند ہفتوں یا زیادہ سے زیادہ چند مہینوں کا مہمان ہے- اس کے بعد تبدیکی کا دوسرا دور کسی باجوہ، کسی پاشا، کسی ظہیر الاسلام کا محتاج نہیں رہے گا-
وعدہ یہ تھا کہ ہم ایسا ’فیض‘ پائیں گے کہ 2035 تک بس ہم ہوں گے اور فیض- تمام ملک فیض یاب ہو جائے گا، لمبے عرصے کے لئے-
وعدہ یہ تھا کہ بابا ڈیم والا بھلے گزر چکا، رافعہ کی سہیلی کا داماد اور اس کے بعد ترتیب سے آنے والے سب انقلاب پرور منصفین تبدیلی کے کھیت ہی کی آبیاری کریں گے- اب کے آنے والا دور تبدیلی دیر پا اور نتیجہ خیز ہو گا- بس چند ماہ کا صبر، پھر پانچوں دیسی گھی میں-
لیکن روایتی قیادت نے پھر ایک ایسی AWESOME چال چلی کہ فیض ملنا تو درکنار، دوسری طرف عدالتی نظام میں نہایت محنت سے دی گئی ترتیب بھی وقت کے ساتھ تتر بتر ہوتی گئی-
نوجوانوں کو پھر بھی نہایت مخلص قیادت کے فرمودات کے عین مطابق امید تھی کہ جلد ہی اس ملک نے نادہندہ ہو جانا ہے، اور روایتی سیاست دانوں کے بس کا روگ نہیں کہ اس کو سنبھال سکیں-
AWESOME چال کے نتیجے میں سامنے آنے والے عہدیدار بھی مجبور ہو جائیں گے کہ تبدیلی سرکار کو ہی واپس لایا جائے- اور بس نومبر 2024 آ جانے دیں- ادھر ٹرمپ صاحب اپنی دوسری مدت کا انتخاب جیتے، ادھر وہ تبدیلی سرکار کے حق میں حکم نامہ جاری کر دیں گے-
یہ دونوں امیدیں بھی روایتی سیاستدانوں اور AWESOME سرکار نے ناکام بنا کر نوجوانوں کی مایوسیوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا-
انہی جوانوں کی امیدوں کو بھارت کے حملے اور افغانستان سے آنے والے دراندازوں کی دہشت گردی پر ایک بار پھر کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن اقتدار پر قابض سازشی عناصر نے اس امید پر بھی پانی پھیر دیا-
حالیہ مہینوں میں تازہ ترین امید کا جال یہ پھینکا گیا کہ بس چند ہفتے دیکھیے 3 ’میم‘ — منصور، منیب، من اللہ — کیسے اس ناامیدی پھیلانے والے انتظام کو چلتا کرتے ہیں- لیکن دو میم تو خود ہی چلتے بنے اور تیسرے کے بس میں اب بس میم مونگ پھلی ہی بچتی نظر آتی ہے-
فیض نے کسی اور کو کیافیض یاب کرنا تھا، خود ہی بے فیض ٹھہرا-
ہمدردی ہمیں بھی ہے- جس طرح سے حالات گزشتہ چند سالوں اور خاص طور پر پچھلے پونے 4 سالوں میں آگے بڑھے ہیں، نوجوانوں کے ایک خاص گروہ کی مایوسی بے وجہ نہیں ہے- بنتی ہے-
ان کے لیے واقعی سب ختم ہوتا جا رہا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














