سپر ٹیکس سے متعلق کیسز کی سماعت وفاقی آئینی عدالت میں چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بینچ نے کی، سماعت کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو سمیت ٹیکس پیئرز کے نمائندہ وکلا اور معزز ججز کے درمیان تفصیلی دلائل اور مکالمہ ہوا۔
ایف بی آر کی وکیل عاصمہ حامد نے عدالت کو بتایا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 4 سی بالکل واضح ہے اور ہدف سے کم آمدن پر سپر ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سب ادارے 10 فیصد سپر ٹیکس ادا نہیں کر رہے جبکہ ٹیکسٹائل ملز صرف 4 فیصد ٹیکس دے رہی ہیں۔
وکیل ایف بی آر کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس حوالے سے واضح وجوہات درج نہیں کیں، جبکہ سیکشن 4 سی کی غیر موجودگی میں بھی ماضی میں ٹیکس عائد رہے ہیں جو آج تک تبدیل نہیں ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کا 5 سالہ صنعتی پالیسی کا اعلان، سپر ٹیکس میں 3 فیصد کمی
سماعت کے دوران مخدوم علی خان، فروغ نسیم اور سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر آگئے، فروغ نسیم نے کہا کہ ایف بی آر زبانی دلائل کے ساتھ تحریری جواب بھی جمع کروائے گا، جس کے بعد ٹیکس پیئرز کی جانب سے تحریری جواب داخل کیا جائے گا۔
چیف جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ اب تک لگنے والا وقت ضائع سمجھا جائے۔ اس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ اس کی ذمہ داری سرکار پر عائد ہوتی ہے، تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ الزام کسی پر نہیں لگانا چاہیے۔
مخدوم علی خان کے استفسار پر چیف جسٹس نے بتایا کہ ایف بی آر کو تحریری جواب جمع کرانے کے لیے کل تک کا وقت دیا گیا ہے، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وہ کل ایف بی آر کا جواب پڑھ کر دلائل دیں گے۔
مزید پڑھیں: سپر ٹیکس سے متعلق قانون سازی میں تضاد، سپریم کورٹ میں اہم نکات سامنے آگئے
سماعت کے دوران جسٹس ارشد حسین شاہ نے مخدوم علی خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو تو ساری ججمنٹ زبانی یاد ہونی چاہیے، جس پر مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ ججوں کو فیصلے زیادہ یاد ہونے چاہییں۔
چیف جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ ہمارا پیشہ اب پہلے جیسا نہیں رہا، جبکہ مخدوم علی خان نے کہا کہ یہاں بھی کچھ چیزیں غلط ہو رہی ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں آنے والا ہر شخص بار سے ہی آتا ہے۔
مخدوم علی خان نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے آئینی عدالت پر بائنڈنگ نہیں ہوتے، جبکہ آئینی عدالت کے فیصلے سپریم کورٹ پر بائنڈنگ ہوتے ہیں، اور سوال یہ ہے کہ ماضی کے فیصلوں کو کس تناظر میں دیکھا جائے گا۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: ایف بی آر کے وکیل کی استدعا پر سپر ٹیکس کیس کی سماعت 5 مئی تک ملتوی
ایف بی آر کے وکیل حافظ احسان کھوکھر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپر ٹیکس کیسز میں ہائی کورٹس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ ماضی میں واضح کر چکی ہے کہ سپر ٹیکس ایک اضافی ٹیکس ہے اور آمدن بڑھنے پر ہی ٹیکس چارج ہوتا ہے، جس کے لیے شیڈول بنایا گیا ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ان سے استفسار کیا کہ آپ پہلے عاصمہ حامد کے دلائل اپنا چکے ہیں، اب نئے نکات کیسے پیش کر رہے ہیں، جس پر حافظ احسان کھوکھر نے کہا کہ وہ انہی دلائل کی روشنی میں ایک دو نکات پر عدالت کی معاونت کرنا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سپر ٹیکس کیس: پورے ملک سے پیسہ اکٹھا کرکے ایک مخصوص علاقے میں کیوں خرچ کیا جائے، جسٹس جمال مندوخیل
حافظ احسان کھوکھر نے مزید کہا کہ ٹیکس کیسز کی نوعیت سول یا سیاسی کیسز سے مختلف ہوتی ہے اور اگرچہ ہائیکورٹس فیصلے دے سکتی ہیں، مگر وہ قانون کی تشریح نہیں کر سکتیں۔
عدالت نے سپر ٹیکس کیسز کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔ ایف بی آر کے وکلا عاصمہ حامد اور حافظ احسان کھوکھر کے دلائل مکمل ہو گئے جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے بھی عاصمہ حامد کے دلائل اپنائے، ٹیکس پیئرز کے وکیل مخدوم علی خان کل اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔














