انڈونیشی-امریکی ماڈل منوہرہ اوڈیلیا نے کہا ہے کہ ان کی 16 سال کی عمر میں ملائیشین شہزادہ تنگکو فخری سے شادی رضامندانہ نہیں تھی اور یہ قانونی طور پر جائز نہیں تھی۔
منوہرہ اوڈیلیا پینوٹ نے 2008 میں ملائیشین شہزادے سے شادی کی تھی تاہم ایک سال بعد انہوں نے ملائیشیا سے فرار حاصل کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ شادی کے دوران انہیں جسمانی اور جنسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں محل میں محدود رکھا گیا۔ ان کے خاندان سے رابطے کو محدود کیا گیا اور ان کی آزادی سلب کی گئی۔
View this post on Instagram
سن 2009 میں منوہرہ نے سنگاپور میں ایک ہوٹل سے فرار حاصل کیا جس میں ان کی ماں، مقامی پولیس اور امریکی سفارت خانے نے مدد کی۔ انہوں نے بعد میں بتایا کہ جنسی زیادتی اور ہراسانی میرے لیے روزانہ کا معمول تھا اور ہر بار اس وقت ہوتی جب میں اس کی اجازت نہ دیتی۔
حال ہی میں منوہرہ اوڈیلیا نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہیں میڈیا میں ’سابقہ بیوی‘ کے طور پر پیش کرنا غلط اور گمراہ کن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے نوعمری کے دوران ہونے والا تعلق نہ تو رومانوی تھا، نہ رضامندانہ، اور نہ ہی قانونی شادی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: نوجوان ماڈل رومیسہ سعید ٹریفک حادثے میں جاں بحق
منوہرہ نے لکھا کہ میں کبھی بھی اس تعلق میں رضاکارانہ طور پر شامل نہیں ہوئی۔ میں اس وقت نابالغ تھی اور کسی قانونی یا حقیقی رضامندی کا اختیار نہیں رکھتی تھی۔ انہوں نے صحافیوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے درخواست کی ہے کہ وہ اس اصطلاح کے استعمال سے اجتناب کریں اور درست، اخلاقی اور ذمہ دار رپورٹنگ کو یقینی بنائیں۔














