ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ کام کی جگہ پر مصنوعی ذہانت یا اے آئی کا بڑھتا ہوا استعمال ملازمین کے لیے نئے اور بعض اوقات پوشیدہ نفسیاتی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کا مستقبل: 2026 میں سامنے آنے والے اہم رجحانات
جیسے جیسے اے آئی تقریباً ہر شعبے میں شامل ہو رہی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی سسٹمز کی نگرانی انسانی ملازمین کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہے۔
یہ تحقیق مائیکروسافٹ اور امپیریل کالج لندن کے محققین نے مشترکہ طور پر کی ہے اور اسے سوسائٹی آف آکوپیشنل میڈیسن کے جریدے میں شائع کیا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق اگرچہ اے آئی اپائنٹمنٹ بکنگ اور ملازمت سے متعلق صحت کے ڈیٹا کے تجزیے جیسے کام آسان بنا دیتی ہے تاہم انسانی کردار پیچیدہ صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
امپیریل کالج لندن کی کلینیکل ریسرچ فیلو ڈاکٹر لارا شیمٹوب کے مطابق جیسے جیسے اے آئی معمول کے کام سنبھالتی جائے گی انسانوں کا کردار نگرانی، مسائل کے حل اور جذباتی محنت کی طرف منتقل ہو سکتا ہے جن سب کے اپنے نفسیاتی تقاضے ہیں۔
مزید پڑھیے: ہر معاملے میں مصنوعی ذہانت سے رجوع انسان کی ذہنی صلاحیت کس طرح متاثر کرتا ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں ملازمین کو بیک وقت کئی اے آئی ایجنٹس کو سنبھالنا، بدلتے ہوئے انتظامی طریقوں کے مطابق خود کو ڈھالنا اور زیادہ خودمختار سسٹمز کے نتائج کی نگرانی کرنی پڑ سکتی ہے۔
انسانی نگرانوں کے لیے نئے خطرات اور اضافی بوجھ
تحقیق میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ اے آئی کی جانب سے غلط یا گمراہ کن معلومات فراہم کرنے کا مسئلہ جسے ’ہیلوسینیشن‘ کہا جاتا ہے وقت کے ساتھ زیادہ مشکل سے پہچانا جا سکے گا۔ اس صورتحال سے ملازمین میں خصوصاً وہ افراد جو اے آئی کی نگرانی کے ذمہ دار ہوں گے ذہنی دباؤ، بے یقینی اور نفسیاتی بوجھ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اداروں کواے آئی کی نگرانی سے جڑے اضافی کام اور دباؤ کو باقاعدہ طور پر ملازمت کی ذمہ داریوں میں شامل کرنا چاہیے تاکہ آٹومیشن کے فوائد پوشیدہ کام کے بوجھ کی نذر نہ ہو جائیں۔
اگرچہ اے آئی کام کی جگہ پر صحت کی سہولیات تک آسان رسائی اور ڈیٹا کے انتظام میں بہتری جیسے فوائد فراہم کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کردار کی غیر واضح نوعیت اور نئی ذمہ داریاں بھی جنم لیتی ہیں۔
مزید پڑھیں: کیا ہم خبروں کے حوالے سے مصنوعی ذہانت پر اعتبار کرسکتے ہیں؟
تحقیق کے مطابق انسان اور مصنوعی ذہانت کے باہمی تعلق کو سمجھنا مستقبل میں پیشہ ورانہ صحت کا سب سے اہم میدان ثابت ہو گا۔














