مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ جاری ہے اور حالیہ انکشاف نے اس پیشرفت کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کا استعمال، ملازمین پر نئے نفسیاتی دباؤ کا خدشہ
گوگل جیمنی سے وابستہ ایک پرنسپل انجینیئر ڈوگن نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی ٹیم نے کلاڈ کوڈ کی مدد سے ایسا مسئلہ حل کر لیا جس پر وہ تقریباً ایک سال سے کام کر رہی تھی۔
انجینیئر کے مطابق اے آئی نے محض ایک گھنٹے میں ایک ایسا قابل استعمال پروٹوٹائپ تیار کر دیا جو اس حل سے کافی حد تک مماثل تھا جسے تیار کرنے میں گوگل کی ٹیم کو 12 ماہ کی منصوبہ بندی اور اندرونی رابطہ کاری درکار تھی۔
یہ تجربہ اس وقت شروع ہوا جب انجینیئر ڈوگن نے اے آئی کو ایک ایسے مسئلے کی بنیادی وضاحت فراہم کی جس سے ان کی ٹیم طویل عرصے سے نبرد آزما تھی۔
یہ مسئلہ دراصل ڈسٹری بیوٹڈ ایجنٹ آرکسٹریشن سسٹم کی تیاری سے متعلق تھا جسے سادہ الفاظ میں ایک ایسا ٹریفک کنٹرول سسٹم کہا جا سکتا ہے جو بیک وقت کام کرنے والے کئی اے آئی ایجنٹس کو منظم کرتا ہے۔
مزید پڑھیے: بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے خطرناک استعمال کا انکشاف
صرف 3 پیراگراف پر مشتمل ایک مختصر پرامپٹ کے ذریعے اور بغیر کسی اندرونی بحث یا تاخیر کے اے آئی نے ایسا پروٹوٹائپ تیار کیا جو گوگل کے سال بھر میں تیار کردہ حل کے قریب تر تھا۔
ڈوگن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ میں مذاق نہیں کر رہی ہم گوگل میں گزشتہ سال سے ڈسٹری بیوٹڈ ایجنٹ آرکسٹریٹرز بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ واقعہ اے آئی کے ارتقا میں ایک وسیع تر رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جہاں سنہ 2022 میں اے آئی محض کوڈ کی چند سطریں لکھنے تک محدود تھی جبکہ اب وہ پیچیدہ سافٹ ویئر آرکیٹیکچر تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس پیشرفت نے انجینیئرز کے مستقبل کے کردار پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔
مزید پڑھیں: ٹائم میگزین نے مصنوعی ذہانت کے معماروں کو رواں سال کا ‘پرسن آف دی ایئر’ قرار دے دیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اے آئی فوری طور پر انسانی ماہرین کی جگہ نہیں لے گی تاہم سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے مراحل میں اس کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
ٹیک انڈسٹری کے مبصرین کے مطابق یہ واقعہ اے آئی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا واضح ثبوت ہے جہاں ایک سال سے درپیش تکنیکی رکاوٹ محض چند گھنٹوں میں حل ہو گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسابقتی برتری برقرار رکھنے کے لیے کمپنیوں کو اس تیز رفتار تبدیلی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا ہوگا۔














