پنجاب کے ضلع وہاڑی میں کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ضلعی انتظامیہ نے تمام پالتو کتوں کی رجسٹریشن لازمی قرار دے دی ہے، جبکہ مالکان کو اپنے جانوروں کی مکمل ذمہ داری کا پابند بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ضلع راولپنڈی میں 5 ہزار سے زائد آوارہ کتوں کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈپٹی کمشنر وہاڑی خالد جاوید گورایا کی جانب سے یہ احکامات ضلع میں کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد جاری کیے گئے۔ حالیہ عرصے میں بچوں اور بزرگوں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک افسوسناک واقعے میں ایک معمر خاتون جان کی بازی ہار گئیں۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق میلسی تحصیل میں آوارہ کتوں کے حملے کے نتیجے میں نذیراں بی بی نامی بزرگ خاتون جاں بحق ہوئیں جبکہ ایک کمسن لڑکا زوہیب شدید زخمی ہوا۔

نئے احکامات کے تحت تمام پالتو کتوں کی رجسٹریشن لازمی ہوگی اور ان کے مالکان کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مالکان اس بات کے بھی ذمہ دار ہوں گے کہ ان کے کتوں کو حفاظتی ٹیکے لگوائے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں:آوارہ کتوں سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے؟
ڈپٹی کمشنر نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی پالتو کتے کے کاٹنے سے کوئی شہری متاثر ہوا تو متعلقہ مالک کے خلاف پولیس کی جانب سے فوجداری مقدمہ درج کیا جائے گا۔
دوسری جانب میلسی تحصیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 3 روزہ مہم کے دوران 100 سے زائد آوارہ کتوں کو تلف کیا گیا۔ یہ کارروائی ضلعی کونسل، لوکل گورنمنٹ اور ستھرا پنجاب کی ٹیموں نے مشترکہ طور پر انجام دی۔














