لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 130 سے متعلق انتخابی تنازع کا قانونی باب بند ہو گیا ہے۔ الیکشن ٹربیونل نے مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کے خلاف ڈاکٹر یاسمین راشد کی دائر کردہ الیکشن پٹیشن مسترد کرتے ہوئے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا، جس میں درخواست کو قانونی اور تکنیکی بنیادوں پر ناقابلِ سماعت قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:این اے 130 سے نواز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن درست قرار، یاسمین راشد کی درخواست مسترد
الیکشن ٹربیونل کے تفصیلی فیصلے کے مطابق نواز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن 14 فروری کو جاری کیا گیا تھا، تاہم ٹربیونل کے قیام کے باوجود مقررہ قانونی مدت میں الیکشن پٹیشن دائر نہیں کی گئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کی جانب سے تاخیر کا جو جواز پیش کیا گیا، وہ قانون کے مطابق قابلِ قبول نہیں۔

فیصلے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے جمع کرائی گئی الیکشن پٹیشن پر دستخط موجود نہیں تھے اور اسے قانونی تقاضے پورے کیے بغیر دائر کیا گیا۔ ٹربیونل کے مطابق ایسی درخواست قانوناً قابلِ سماعت نہیں ہوتی۔
عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا کہ انتخابی قوانین کے تحت پٹیشن دائر کرنے کے لیے مقررہ مدت، طریقۂ کار اور دستاویزی شرائط کی پابندی لازم ہے، جن پر عمل نہ کرنے کی صورت میں درخواست خارج کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 130 سے نواز شریف کی کامیابی کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے قانون کے منافی نوٹیفکیشن جاری کیا۔ تاہم الیکشن ٹربیونل نے ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے پٹیشن خارج کر دی ہے۔














