امریکی نیوی دو ڈھائی ماہ سے وینزویلا کا محاصرہ کیے بیٹھی تھی۔ اس دوران اس نیوی نے کئی جنگی جرائم کا بھی ارتکاب کیا۔ صدر ٹرمپ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو مسلسل دھمکیاں بھی دے رہے تھے۔ یہ جیوپالیٹکس کے لحاظ سے سے ہمارا موضوع تھا، مگر ہم نے اس پر قلم اٹھانے کی غلطی نہیں کی۔ حتیٰ کہ سوشل میڈیا پر بھی اسے موضوع نہیں بنایا، جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ لاطینی اقوام وہ گھوڑے ہی نہیں جن پر آپ رقم لگانے کا رسک لے سکیں۔ آپ ان کی دو ڈھائی سو سال کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ اس تاریخ کی روشنی میں جو بات آپ ان کے متعلق پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں، وہ بس یہ ہے کہ کسی بھی لاطینی ملک کی فوج یا سول بیوروکریسی اپنے صدر سے اس حد تک بھی غداری کرسکتی ہے کہ اسے امریکا کے ہی ہاتھوں فروخت کر ڈالے۔
نکولس مادورو پہلے لاطینی صدر نہیں جنہیں امریکا نے اغوا کیا، ان سے قبل 1989 میں پاناما کے صدر مانیول نوریگا کو بھی فوجی ایکشن کرکے امریکا لایا گیا۔ 2004 میں ہیٹی کے صدر ژاں برتران آریسٹید کو دھوکے سے زبردستی فوجی طیارے پر سوار کرکے پہلے افریقہ پھر امریکا منتقل کیا گیا۔ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ ہونڈوراس اور گوئٹے مالا تو بدست خود اپنے اپنے سابق صدور کو امریکا کے حوالے کرچکے ہیں۔
ممکن ہے آپ فرمائیں کہ شہرت تو لاطینی ممالک کی ایسی نہیں۔ وہاں تو سنا ہے پتھر اٹھاؤ تو نیچے سے ایک دو چی گویرا برآمد ہوتے ہیں۔ سو بتاتے چلیں کہ منشیات کے اس گڑھ میں امریکا صرف ریاستوں کے ہی نہیں بلکہ ڈرگ کارٹیلز کے بھی سربراہ بدلتا رہتا ہے۔ جس پر یہی جرائم پیشہ افراد امریکا کے خلاف نعرہ بلند کر دیتے ہیں، یوں یہ انقلابی کا مقام پا جاتے ہیں۔ حقیقی معنی میں فل اور نیم انقلابی وہاں دو ہی گزرے ہیں۔ ایک کیوبا کے فیدل کاسترو اور دوسرے وینزویلا کے ہی ہوگو شاویز۔ کاسترو کی کامیابی دو معاملات کا کلیدی کردار تھا۔ پہلا یہ کہ اس کی کمر میں چھرا چی گویرا ہی گھونپ سکتا تھا کہ عام طور پر نائب ہی ایسا کرتا ہے۔ سو کاسترو نے آزاد کیوبا کے بالکل ابتدائی سالوں میں ہی اس سے جان چھڑالی اور وہ بیچارہ کسمپرسی میں امریکا کے ہی ہاتھوں مارا گیا۔
کاسترو کی کامیابی کا دوسرا اہم ترین راز یہ تھا کہ جب کیوبن میزائل بحران پر امریکا اور سوویت یونین کے مابین بات چیت چلی تو اس میں خروشیف نے جان ایف کینیڈی سے یہ بھی لکھوا لیا کہ امریکا کبھی بھی کاسترو کے خلاف بغاوت نہیں کروائے گا اور یہ عہد امریکا نے نبھایا۔ جہاں تک ہوگوشاویز کا تعلق ہے تو اس کے خلاف تو چھوٹے بش نے بغاوت کروادی تھی۔ 11 اپریل 2002 کو اسے ہیلی کاپٹر میں ڈال کر نامعلوم مقام کی جانب بھی روانہ کردیا اور پیچھے ایک امریکی ٹٹو پیڈرو کارمونا نے اقتدار بھی سنبھال لیا۔ مگر لاکھوں شہریوں نے صدارتی محل کا گھیراؤ کر لیا۔ یوں دو دن بعد یعنی 13 اپریل 2002 کو امریکا کو اپنے بھاڑے کے ٹٹو کے عوض شاویز لوٹانا پڑا۔
مگر موجودہ صدر نکولس مادورو کے ساتھ وہی ہوا جو لاطینی اقوام کی تاریخ ہے۔ درجنوں ہیلی کاپٹر وینزویلا کے دارالحکومت کراکس پر اتنی نیچی پرواز کرتے آئے کہ غلیل سے بھی گرائے جاسکتے تھے۔ مگر ایک بھی ہیلی کاپٹر کو خراش تک نہ آئی۔ ایئر ڈیفنس میزائل چھوڑیے پستول کی گولی بھی فائر نہ ہوئی۔ وہ پورے اطمینان کے ساتھ کسی روک ٹوک کے بغیر آئے، اور مادورو کو شریک حیات سمیت لوڈ کرکے لے گئے۔ پیچھے انہوں نے 32 لاشیں چھوڑی ہیں جو مادورو کے کیوبن باڈی گارڈز کی ہیں۔ ان کے متعلق بھی امکان یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں آنے والے امریکیوں نے نہیں مارا، بلکہ ان کی آمد سے قبل خود وینزویلا کے فوجی اہلکار انہیں ٹھکانے لگا کر امریکی دستے کا راستہ صاف کرچکے تھے۔
اب پیچھے بیشک 10 چی گویرے کھڑے ہوجائیں مگر اس سے یہ تاریخ مٹ نہیں جائے گی کہ مادورو کو بھی اپنے حصے کے غدار نصیب ہوئے۔ وہ غدار جو کسی بھی وقت کسی بھی لاطینی صدر کو اسی انجام سے دوچار کرنے کے لیے ہمہ وقت دستیاب رہتے ہیں۔ دنیا کے اس بدترین جرائم پیشہ خطے میں یہ معمول کی بات ہے۔ ہاں! اگر آپ کو خوش فہمیوں اور خوابوں کی دنیا میں رہنے کی شدید قسم کی عادت ہے تو یہ شوق آپ گیبریل گارسیا مارکیز اور پابلو نیرودا کا چورن بیچ کر پورا کرسکتے ہیں۔ واہ! واہ! کے لیے لوگ کم پڑے تو ہم اپنی واہ! واہ! بھی شامل کردیں گے۔ مگر حقیقت یہی رہے گی کہ جب اسی لاطینی امریکا میں لیجنڈری سوویت انقلابی لیڈر لیون ٹراٹسکی پناہ لینے آئے تو اس قوم نے سٹالن کی خوشنودی کے لیے اسے بھی بے دردی سے قتل کردیا تھا۔
لاطینیوں کو چھوڑیے ان کے حال پر، اور آئیے اس سوال کی جانب کہ ٹرمپ نے اس کھلے عام اغوا سے کیا حاصل کرنے کی کوشش کی؟ عالمی ماہرین کے مطابق بظاہر دو ہی اہداف نظر آتے ہیں۔ پہلا تو وہی جس پر ہم بھی پچھلے دو تین کالموں میں بات کرچکے۔ یعنی امریکا لوٹ کر اپنے براعظم تک سمٹ رہا ہے۔ سو اس نے وہاں اب کچھ عرصہ توڑ پھوڑ کرکے اپنی خجالت تو مٹانی ہی ہے۔ دوسرا ہدف یہ نظر آتا ہے کہ امسال اپریل میں ٹرمپ نے بیجنگ کے دورے پر جانا ہے اور چین وینزویلن کروڈ آئل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ سو توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ ٹرمپ اس تازہ صورتحال کو لیوریج کے طور پر استعمال کرکے چین کے ساتھ ’ڈالر کو عزت دو‘ پر بات کریں گے۔ مگر ہمارے خیال میں چین محض اتنی سی بات پر بلیک میل نہیں ہوسکتا۔ ٹرمپ محض وینزویلن کروڈ کو نہیں بلکہ پورے لاطینی امریکا کو چین کے لیے نوگو ایریا قرار دیں تب ہی شاید چائنیز کچھ ہلکا پھلکا دباؤ محسوس کریں۔ مگر تاریخ یہ بتاتی ہے کہ چائنیز کسی بھی امریکی ہشیاری کا توڑ نکالنے میں تین سال سے زیادہ نہیں لگاتے۔
سو ہماری ذاتی رائے یہ ہے کہ ٹرمپ کے حکم پر نکولس مادورو کا اغوا فی الحقیقت وہی چیز ہے جسے جیوپالیٹکس میں Late-Stage Empire Behavior کہتے ہیں۔ یعنی ڈوبتی سلطنت کے آخری مرحلے کا رویہ۔ اس حوالے سے مفکرین نے 6 علامات گنوا رکھی ہیں جو ان کے بقول ڈوبتی سلطنت کی جانب سے آخری مرحلے میں نظر آتی ہیں۔ پہلی یہ کہ خارجہ پالیسی بہت جارحانہ ہوجاتی ہے۔ دوسری یہ کہ سفارتکاری کے بجائے فوجی طاقت کے استعمال پر انحصار بڑھ جاتا ہے۔ تیسری یہ کہ دوہرا معیار قدم قدم پر نظر آنے لگتا ہے۔ چوتھا یہ کہ اپنے اتحادیوں پر بہت زیادہ دباؤ شفٹ کردیا جاتا ہے۔ پانچواں یہ کہ داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے طرح طرح کے بہانے تراشے جانے لگتے ہیں۔ چھٹا اور آخری یہ کہ ڈوبتی سلطنت کسی بھی معاملے میں اخلاقی جواز کو مکمل نظر انداز کرنے لگتی ہے۔
اب اگر ہم ان معیارات پر دیکھیں تو ٹرمپ کی جارحانہ خارجہ پالیسی کا اظہار ہم گرین لینڈ اور کینیڈا کو امریکا کا حصہ بنانے، اور ٹیرف کارڈ والی گیدڑ بھبکیوں کی صورت دیکھ چکے۔ یہ مسلمہ اصول ہے کہ ابھرتی طاقتیں پیداوار بڑھاتی ہیں جبکہ زوال پذیر طاقتیں پابندیاں لگاتی ہیں۔ فوجی طاقت پر زیادہ انحصار کے نمونے بھی ہم سب یوکرین، مشرقی وسطیٰ اور نائجیریا سے لے کر وینزویلا تک دیکھ رہے ہیں۔ دوہرے معیار کے حوالے سے ہم دیکھ چکے کہ یوکرین میں فوجیوں کی ہلاکت پر سینہ کوبی کرنے والے بائیڈن اور ٹرمپ فلسطین میں معصوموں کے قتل عام کے سہولت کار بنے۔ اتحادیوں پر دباؤ کی دو میں سے پہلی مثال تو یورپ کی ہے جسے ٹرمپ نے بالکل کھڈے لائن لگا دیا ہے۔ جبکہ دوسری مثال انڈیا کی ہے جہاں مودی کو ذلیل کرنا ٹرمپ کا من پسند مشغلہ بن گیا ہے۔
داخلی مسائل کے حوالے سے صورتحال یہ ہے کہ مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے، انفراسٹرکچر تباہ ہے، ملک بدترین قسم کی داخلی تقسیم سے دوچار ہے۔ مگر ٹرمپ ان مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک دن پیوٹن تو دوسرے دن شی جن پنگ کو زیر بحث لاتے ہیں، اور کوشش کرتے ہیں کہ شہریوں کی ساری توجہ اس طرف رہے۔ اخلاقی جواز نظر انداز کرنے کی سب سے بدترین مثال نکولس مادورو کا اغوا ہے جسے صرف 21 فیصد امریکیوں کی حمایت حاصل ہے۔ کسی بھی امریکی صدر نے کبھی بھی کھلے عام یہ نہیں کہا تھا کہ فلاں ملک کو ہم چلائیں گے، یا میرا وزیر خارجہ چلائے گا۔ وینزویلا کے حوالے سے ٹرمپ نے پوری ڈھٹائی سے یہ بات کی اور دنیا حیرت سے تکتی رہ گئی کہ یہ شخص کہہ کیا رہا ہے؟ اقوام متحدہ کے اس چارٹر کے ہوتے کوئی اس ڈھٹائی کا مظاہرہ کر بھی کیسے سکتا ہے جس نے ہر ریاست کو مکمل خود مختاری کا تحفظ فراہم کر رکھا ہے؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













