کوئٹہ کے علاقے جناح روڈ پر واقع ایک نجی ہیلتھ سینٹر سے نومولود بچی کے مبینہ طور پر غائب ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے شہر بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نرسری عملے کے 4 افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ صوبائی وزیر صحت نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نوشکی سانحہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا سول اسپتال کوئٹہ کا ہنگامی دورہ
کلی عمر کے رہائشی متاثرہ شہری نظام الدین نے بتایا کہ اس نے 3 جنوری کو اپنی نومولود بچی کو علاج اور نگہداشت کے لیے نجی ہیلتھ سینٹر کے انکیوبیٹر میں رکھنے کے لیے عملے کے حوالے کیا تھا۔ نظام الدین کے مطابق آج سینٹر کے عملے نے فون کرکے اسے کہا کہ آکر اپنی بچی لے جائیں، تاہم جب وہ سینٹر پہنچا تو صورتحال حیران کن طور پر تبدیل ہو چکی تھی۔
متاثرہ شہری کے مطابق جب اس نے نرسری عملے سے کہا کہ اس نے اپنی بچی سینٹر کے حوالے کی تھی تو عملے نے پہلے کہا کہ بچی انتقال کر گئی ہے۔ بعد ازاں عملے نے موقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ بچی غلطی سے کسی اور فیملی کے حوالے کر دی گئی ہے۔

نظام الدین نے بتایا کہ جب اس نے عملے کی بتائی گئی فیملی سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ اپنا ہی بچہ واپس لے گئے تھے، جو بعد میں انتقال کر گیا۔ متاثرہ شہری نے کہا کہ اسے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ کس کی بچی اسے واپس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ اس کی اپنی نومولود بچی کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
مزید تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے نظام الدین نے بتایا کہ نجی ہیلتھ سینٹر میں نصب خفیہ کیمروں کی متعلقہ تاریخ کی فوٹیج بھی غائب کر دی گئی ہے، جس سے واقعے پر شکوک مزید بڑھ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ: مظاہرین 5 خود کش حملہ آوروں کی لاشیں اسپتال سے زبردستی لے گئے، معاملہ کیا ہے؟
واقعے کے خلاف بچے کے ورثا نے شدید احتجاج کیا اور پولیس کو باقاعدہ درخواست دی، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نرسری عملے کے 4 افراد کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور تمام ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
صوبائی وزیر صحت کا نوٹس
صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ نجی ہیلتھ سینٹر سے نومولود بچے کی تبدیلی یا گمشدگی کا معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معاملے کی ہر پہلو سے مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ہیلتھ کیئر کمیشن کو واقعے کی تفصیلی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر صحت کے مطابق ہیلتھ کیئر کمیشن 24 گھنٹوں کے اندر واقعے سے متعلق رپورٹ پیش کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحقیقات کا عمل مکمل طور پر میرٹ پر کیا جائے گا اور کسی کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:’ہر بار دوائیاں باہر سے لانا پڑتی ہیں‘، سول اسپتال کوئٹہ میں عوام ادویات سے محروم کیوں؟
بخت محمد کاکڑ نے مزید کہا کہ تحقیقات کے بعد جہاں بھی غیر قانونی عمل سامنے آیا، ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور بھرپور کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت عوام کو معیاری اور محفوظ طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔












