وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں علما کرام میں اعزازیہ کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے گناہ لوگوں کو شہید کرنا، ان کے کاروبار اور املاک کو نقصان پہنچانا اور ریاستی و عوامی امانت کو تباہ کرنا کھلا فتنہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فتنے کی سرکوبی صرف حکومت نہیں بلکہ پورے معاشرے، بالخصوص علما کرام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اہل پنجاب کے لیے ایک اور خوشخبری، مریم نواز نے کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پروگرام کا افتتاح کردیا
لاہور میں علما کرام میں اعزازیہ کارڈ کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی زمین کو لوگوں پر تنگ کرنا، بے گناہوں کا خون بہانا، ان کے کاروبار، املاک، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو نقصان پہنچانا اگر فتنہ نہیں تو پھر فتنہ کس کو کہا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس فتنے کی سرکوبی صرف حکومت کا کام نہیں بلکہ اس کے لیے علما کرام کی لمحہ بہ لمحہ معاونت درکار ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ دین کے نام پر فتنہ پھیلانا دین سے بڑی خیانت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ اپنی ڈیوٹی پر تھے، جو ریاست اور عوام کے تحفظ کے لیے مامور تھے، ان سے ان کی روزی، ان کی زندگی اور ان کا مستقبل چھین لیا گیا، اگر یہ فتنہ نہیں تو پھر اور کیا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ فتنے کو دل میں برا جاننا ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے اور یہ معاشرے کے لیے زہر اور انسانیت کا قتل ہے۔ انہوں نے علما کرام سے اپیل کی کہ وہ اپنی صفوں کا خیال رکھیں کیونکہ جب لوگ مشکلات میں ہوتے ہیں تو وہ دین، اللہ تعالیٰ اور دین کی بات کرنے والوں کی طرف دیکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قرآن اور حدیث دونوں میں فساد کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے علما کرام سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہوئے کہا کہ ظلم، زیادتی اور فتنہ چاہے کسی بھی رنگ، نسل یا طبقے سے ہو، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اسے کٹہرے میں لا کر مظلوموں کو انصاف فراہم کرے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں پہلا ٹائم بیسڈ سٹروک ٹریٹمنٹ کلچر متعارف
مریم نواز نے کہا کہ ریاست پوری قوت کے ساتھ اپنی ذمہ داری ادا کرے گی، شہدا کے خون کا حساب بھی لیا جائے گا اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
امن و امان کی بہتری اور جرائم کے خاتمے پر زور
وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ صوبے میں گن کلچر کا خاتمہ کیا گیا، چوری چکاری، خواتین اور بچوں کی بے حرمتی جیسے جرائم پر قابو پایا گیا اور دن دہاڑے ہونے والے قتل و غارت کے واقعات کو روکا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی تاکہ عوام اپنے گھروں میں سکون سے رات گزار سکیں۔
فتنے کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی
مریم نواز نے کہا کہ کسی بھی قسم کے فتنے کو پنپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور پنجاب کی سرزمین ہر فتنے، ہر ظالم اور ہر مافیا کے لیے ان شاء اللہ تنگ کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ چاہے کسی بھی روپ یا نقاب میں آئے، وہ قانون کی گرفت سے نہیں بچنا چاہیے، اور اس سلسلے میں علما کرام کے تعاون کی اشد ضرورت ہے۔
علما کرام کا معاشرتی اصلاح میں کردار
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ لوگ علما کرام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں، انہیں مکرم اور مقدم سمجھتے ہیں اور ان کی بات سنتے ہیں، اس لیے معاشرے کی اصلاح کرنا ان کا دینی فریضہ ہے، جیسا کہ یہ ان کا اپنا بھی دینی فریضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح علما لوگوں کو نماز، اذان اور قرآن کی تعلیم کی طرف بلاتے ہیں، اسی طرح یہ بھی ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو قانون کے احترام کا شعور دیں۔
قانون اور اداروں کے احترام کی اپیل
مریم نواز نے کہا کہ ملک اور قوم کی خدمت اور حفاظت صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ پاکستان میں بسنے والے ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا احترام کیا جائے کیونکہ وہ عوام کی خدمت اور حفاظت کے لیے مامور ہیں اور اپنی جانیں قربان کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ مریم نواز کا نابینا افراد کے لیے خصوصی رسم الخط ‘بریل’ کے موجد کو خراجِ تحسین
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ٹریفک قوانین پر سختی کی گئی ہے اور وہ جانتی ہیں کہ لوگ اس سے خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیلمٹ نہ پہننے، ون وے کی خلاف ورزی، کم عمر بچوں کے گاڑیاں چلانے اور دیگر خلاف ورزیوں پر چالان ہو رہے ہیں، مگر ان چالانوں سے ان کی ذات کو کوئی فائدہ نہیں۔
قوانین کا مقصد جانوں کا تحفظ
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ہیلمٹ پہنتا ہے تو اس کا فائدہ مریم نواز شریف کو نہیں بلکہ ماؤں کے بیٹوں کو چوٹ لگنے سے بچانے، بہنوں کے بھائیوں کی جانوں کے تحفظ اور بچوں کے باپ کو خیریت سے گھر واپس لانے میں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ چالان نہیں کرنا چاہتیں بلکہ عوام کی زندگیوں کی حفاظت چاہتی ہیں۔
سماجی ذمہ داری اور باہمی تعاون پر زور
مریم نواز نے عوام سے اپیل کی کہ وہ قانون، ٹریفک قوانین اور اخلاقی اقدار کا احترام کریں، ہر قسم کے نشے اور برائی سے دور رہیں، چاہے وہ زمین پر قبضہ ہو، حق تلفی ہو یا کسی پر ظلم۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر جگہ نہیں پہنچ سکتی، لیکن علما کرام کی آواز ہر جگہ پہنچتی ہے، اس لیے معاشرتی مسائل کے حل میں ان کا کردار نہایت اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مریم نواز کا واہگہ بارڈر کا دورہ، آزادی کی تاریخ اجاگر کرنے والے منصوبوں کا افتتاح
قبضہ مافیا اور سماجی ذمہ داری پر زور
وزیرِاعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کسی کا گھر یا دکان ناحق قبضہ کرنا نہایت مذموم عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات میں حکومت کی معاونت کرنا ضروری ہے اور علما کرام اور عوام سے گزارش کی کہ وہ اس معاملے میں ان کا ساتھ دیں تاکہ ایک مضبوط اور فخر کا اہل معاشرہ قائم کیا جا سکے۔
عزازیہ کارڈ اور اقدامات کا آغاز
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ یہ اعزازیہ کارڈ ایک آغاز ہے اور وہ اپنی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر مزید حصہ ڈالیں گی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سب کو اپنے ملک میں عزت، سلامتی، امن اور اشتراک کے ساتھ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
مریم نواز نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سب کے گھروں اور زندگیوں میں برکت عطا فرمائے۔ انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام کرتے ہوئے کہا ’پاکستان زندہ باد‘۔













