عدالت نے ایمان مزاری کی درخواست مسترد کر دی جس میں انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو پراسیکیوشن کے گواہ کے طور پر طلب کرنے کی کوشش کی تھی۔ عدالت کے مطابق یہ قانونی اقدام کے بجائے ایک سیاسی حکمت عملی معلوم ہوتا ہے جس کا مقصد عدالتی فورم کو ادارہ جاتی تنازع اور میڈیا بیانیے میں تبدیل کرنا تھا۔ جج نے واضح کیا کہ پراسیکیوشن کے گواہوں کے تعین کا اختیار صرف ریاست کو حاصل ہے، نہ کہ ملزم کو۔
یہ بھی پڑھیں:سوشل میڈیا پوسٹس کیس، ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی سرکاری گواہ پر جرح مکمل
عدالت کے سامنے ایمان مزاری اور ان کے معاونین یہ واضح نہیں کر سکے کہ وہ کس قانونی شق کے تحت ڈی جی آئی ایس پی آر کو پراسیکیوشن گواہ بنوانا چاہتے ہیں۔ اس خاموشی نے درخواست کے کھوکھلے پن کو ظاہر کیا۔
جج نے کہا کہ عدالتیں کسی فرد یا عہدے سے متاثر ہو کر فیصلے نہیں کرتی، بلکہ صرف قانونی نکات اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سناتی ہیں۔ قانون کے مطابق پراسیکیوشن کے گواہوں کا تعین ریاست کا اختیار ہے، نہ کہ ملزم کا۔

ایمان مزاری یہ ثابت کرنے میں ناکام رہیں کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کا اس مقدمے یا مبینہ ٹوئٹس اور بیانات سے کوئی براہِ راست تعلق ہے۔ محض کسی اعلیٰ آئینی عہدے کا نام شامل کر دینا قانونی وزن فراہم نہیں کرتا، اور یہی نکتہ اس کیس میں سب سے نمایاں رہا۔














