ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات نے کہا ہے کہ گزشتہ سال صوبے بھر میں 730 سے زائد انسداد دہشتگردی آپریشنز کیے گئے اور پورے صوبے میں پولیس کی عملداری قائم ہے۔ پنجگور میں بھی ایک آپریشن کے دوران دہشتگرد ساجد کو گرفتار کیا گیا، جو پنجگور سے تربت اسلحہ منتقل کر رہا تھا۔ اس کے قبضے سے 5 راکٹ، 2 رائفلیں، 20 ہینڈ گرنیڈز اور 23 میگزینز بھی برآمد ہوئیں۔
کوئٹہ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایات کے بعد تمام سیکیورٹی اور انٹیلیجنس اقدامات مکمل طور پر کوآرڈینیٹڈ انداز میں کیے جا رہے ہیں اور صوبے بھر میں ریسٹرکشنز سے متعلق مسائل ختم کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان میں پہلی بار فیس لیس فورس کو اگلے 2 ماہ میں متعارف کرایا جائے گا۔
مزید پڑھیں:لیویز فورس کو قانونی طور پر بلوچستان پولیس میں ضم کردیا گیا
ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کے مطابق انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بڑا مشترکہ آپریشن کیا، جس کے دوران ایک انتہائی مطلوب دہشتگرد کو گرفتار کیا گیا، دہشتگرد اسلام آباد میں تعلیم حاصل کر چکے تھے اور دیگر افراد کا تعلق کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی این پی سے تھا۔ آپریشن اور ریاستی معاملات سے متعلق مکمل رپورٹ فراہم کی جائے گی۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ اسلام آباد اور بہاولپور سے گرفتار دہشتگرد کی شناخت ساجد احمد کے نام سے ہوئی ہے، جس نے اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹرز کیا۔ ملزم کی گاڑی سے 800 راؤنڈز، 20 ہینڈ گرنیڈز، 22 فیوزز، سی فور کی سلیبس، ایس پی کیپیٹ ریکارڈ، ہیلمٹ اور قریباً 30 ڈیٹونیٹر کارڈز برآمد ہوئے۔
ڈی آئی جی کے مطابق ساجد احمد کے بی ایل اے اور دیگر دہشتگرد گروہوں سے روابط تھے۔ اس نے گوگل ارتھ پر تربت سمیت مختلف علاقوں کے راستے اور نیٹ ورک مارک کر رکھے تھے، جبکہ ہائیکورٹ، ایف سی اور دیگر سیکیورٹی اداروں سے متعلق حساس معلومات بھی اس نیٹ ورک میں شامل تھیں۔ نیٹ ورک میں شہری سہولت کاروں کے ساتھ بچوں کو بھی استعمال کیا جا رہا تھا۔
حکام کے مطابق گرفتار دہشتگرد نے بی ایل اے اور بی وائی سی سے مسلسل رابطہ رکھا اور دہشتگرد لٹریچر تحریر کرنے کے ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے نیٹ ورک چلانے میں مدد کی۔ ملزم کے قبضے سے جدید اسلحہ، نائٹ وژن آلات اور دیگر خصوصی ایکوپمنٹ بھی برآمد کی گئی۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے مزید بتایا کہ بی وائی سی کے تحت مزید 3 افراد سرفراز، جہاں زیب اور بیزن کو گرفتار کیا گیا۔ 18 سالہ سرفراز نے پولیس اور پولیو ڈیوٹی کی نگرانی کی کوشش کی، جبکہ جہاں زیب نے اس کی تربیت کی۔ جہاں زیب نے بساق اسٹڈی سرکل کے ذریعے فنڈز، ادویات اور دیگر سہولتیں فراہم کیں۔ کارروائی کے دوران بیزن کا بھائی ایف سی کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوا۔
مزید پڑھیں:بلوچستان ضلعی انتظامیہ کو پولیس اختیارات دینے کا تنازعہ، حکومت سنبھال سکے گی؟
انہوں نے بتایا کہ نیٹ ورک کے تحت بچوں کو اسکولوں، کالجوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے تیار کیا جا رہا تھا، انہیں پیسے اور ٹرانسپورٹ بھی فراہم کی جاتی تھی۔ گرفتار ملزمان بچوں کو چھوٹے کاموں میں لگا کر آہستہ آہستہ نیٹ ورک کا حصہ بناتے رہے۔ تاہم اب بچوں کی نفسیاتی بحالی اور والدین سے رابطے کے ذریعے انہیں ذمہ دار شہری بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کے مطابق تمام کارروائیاں قانون کے مطابق اور مکمل انٹیلیجنس کوآرڈینیشن کے ساتھ کی گئیں، جبکہ مزید گرفتاریاں اور تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔














