شامی حکام نے جمعرات کے روز شمالی شہر حلب کے ایک متنازع علاقے میں رہنے والے شہریوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت جاری کر دی، جبکہ حکومت اور کرد فورسز کے درمیان جھڑپیں دوسرے روز بھی جاری رہیں۔
حکام نے شہریوں کے انخلا کے لیے محفوظ راستہ بھی کھول دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ اور فرانس کا شام میں داعش کے ٹھکانے پر مشترکہ فضائی حملہ
حلب صوبائی حکومت کے مطابق، فوج کے ساتھ رابطہ کاری کے تحت شہریوں کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے تک علاقہ خالی کرنے کی مہلت دی گئی ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نے فوج کے حوالے سے بتایا کہ مقررہ وقت کے آدھے گھنٹے بعد کرد قیادت میں قائم شامی ڈیموکریٹک فورسز کے خلاف شیخ مقصود، اشرفیہ اور بنی زید کے علاقوں میں ’مخصوص آپریشنز‘ کا آغاز کیا جائے گا۔
Syria government demands Kurdish fighters leave Aleppo neighbourhoods.
Clashes between the two sides have caused thousands of civilians to fleehttps://t.co/LBfTAF4MPd pic.twitter.com/HEWx5roPSn
— AFP News Agency (@AFP) January 8, 2026
میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کی صبح شہریوں کے انخلا کے دوران وقفے وقفے سے گولہ باری کی آوازیں سنی گئیں۔
حلب کے ڈائریکٹوریٹ آف سوشل افیئرز اینڈ لیبر کے مطابق بدھ تک صوبے بھر میں 46 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
ایس ڈی ایف کا کہنا ہے کہ کرد اکثریتی علاقوں میں کم از کم 8 شہری ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ سرکاری حکام کے مطابق لڑائی کے دوران حکومت کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں کم از کم 5 شہری اور ایک فوجی جان سے گئے۔
مزید پڑھیں: شام میں یکم جنوری سے نئی کرنسی کا اجرا
دونوں جانب درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں، فریقین نے ایک دوسرے پر شہری آبادیوں اور بنیادی ڈھانچے کو دانستہ نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
یہ جھڑپیں مرکزی حکومت اور ایس ڈی ایف کے درمیان سیاسی مذاکرات میں تعطل کے پس منظر میں سامنے آئی ہیں۔
دمشق میں صدر احمد الشرع کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت نے مارچ میں ایس ڈی ایف کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت شمال مشرقی علاقوں پر قابض ایس ڈی ایف کو 2025 کے اختتام تک شامی فوج میں ضم ہونا تھا۔
مزید پڑھیں:’یہ انتقام ہے، جنگ نہیں‘، امریکا کے شام میں داعش پر بھرپور فضائی و زمینی حملے
تاہم اس عمل کے طریقۂ کار پر اختلافات برقرار ہیں۔ اپریل میں معاہدے کے تحت شیخ مقصود اور اشرفیہ سے ایس ڈی ایف کے متعدد جنگجو نکل گئے تھے۔
اتوار کے روز مرکزی حکومت اور ایس ڈی ایف کے حکام کے درمیان دمشق میں ایک اور ملاقات ہوئی، تاہم سرکاری حکام کے مطابق کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہو سکی۔
واضح رہے کہ نئی شامی فوج، جو دسمبر 2024 میں سابق صدر بشار الاسد کے خلاف باغیانہ کارروائی کے بعد تشکیل دی گئی، اس میں شامل بعض دھڑے ماضی میں ترکی کی حمایت یافتہ تنظیمیں رہے ہیں، جن کی کرد فورسز کے ساتھ طویل عرصے سے جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: شامی شہر حمص میں مسجد میں دھماکا، 8 افراد شہید، متعدد زخمی
ایس ڈی ایف کئی برسوں سے داعش کے خلاف جنگ میں امریکا کی اہم اتحادی رہی ہے، تاہم ترکی اسے کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے تعلق کی بنا پر دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔ اس وقت ترکی میں ایک امن عمل بھی جاری ہے۔
امریکی حمایت کے باوجود، ٹرمپ انتظامیہ نے عبوری شامی حکومت کے ساتھ بھی قریبی روابط استوار کر رکھے ہیں اور کرد قیادت پر مارچ میں طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے جمعرات کو بیان میں کہا کہ امریکا صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام فریقین سے ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: شام: امریکی اور شامی فوجیوں پر گشت کے دوران فائرنگ، 2 اہلکاروں سمیت 3 امریکی ہلاک
بیان کے مطابق امریکی ایلچی ٹام بیراک دونوں فریقین کے درمیان بات چیت میں سہولت کاری کی کوشش کر رہے ہیں۔
ترکی کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ یہ کارروائی مکمل طور پر شامی فوج انجام دے رہی ہے، جبکہ ترکی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔
وزارت کے مطابق شام کی سلامتی، ترکی کی سلامتی ہے اور اگر شامی حکومت نے مدد طلب کی تو ترکی ضروری تعاون فراہم کرے گا۔

















