رجب بٹ کے وکیل میاں اشفاق اور ان کے خلاف مقدمہ درج کروانے والے وکلا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب ہو گئے جس کے بعد فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف درج مقدمات اور دائر درخواستیں واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوبر رجب بٹ کیس: وکلا کے درمیان تنازع نے نیا رخ اختیار کر لیا
مذاکرات کے بعد میاں علی اشفاق نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فریقین کے درمیان تمام معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ درج مقدمات کے محرکات، واقعے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال اور اس کے اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔
میاں علی اشفاق کے مطابق تمام مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کرنے پر اتفاق ہوا ہے، چاہے معاملہ ایڈوکیٹ ریاض سولنگی سے متعلق ہو یا ان کے مؤکل رجب بٹ سے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فریقین نے ایک دوسرے پر کسی قسم کی شرائط عائد نہیں کیں اور اس معاملے کو مکمل طور پر خوشگوار ماحول میں طے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ تقریباً 10 برس سے سندھ بھر میں وکالت کے فرائض انجام دے رہے ہیں جبکہ اس تنازعے کے حل میں عامر وڑائچ نے اہم کردار ادا کیا۔
میاں علی اشفاق نے کہا کہ اس واقعے سے کراچی بار کی ساکھ متاثر ہوئی، حالانکہ کراچی بار میں ہر قوم، مذہب اور فرقے کا احترام کیا جاتا ہے۔
انہوں نے وکلا سے اپیل کی کہ مذہبی نوعیت کے معاملات میں وکالت ضرور کریں، لیکن خود فریق نہ بنیں۔
مزید پڑھیے: پنجاب بار کونسل نے ٹک ٹاکر رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق کا لائسنس معطل کردیا
ان کا کہنا تھا کہ کراچی بار قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اسی لیے اسے نشانہ بنایا گیا اور اس واقعے کے ذریعے عوام میں کراچی بار کے وکلا کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔
میاں علی اشفاق نے مزید کہا کہ آج دونوں فریقین کو مکمل فری ہینڈ دیا گیا، کسی جانب سے کوئی دباؤ نہیں تھا اور تشدد کی کسی صورت حمایت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ اگر کسی کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بار سے رجوع کرے۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوبر رجب بٹ پر تشدد کے بعد بہن نے عدالت سے انصاف کی اپیل کردی
انہوں نے وکلا سے گزارش کی کہ عدالت آنے والے ہر سائل کو عزت اور احترام دیا جائے۔













