امریکا نے فوجی و سیاسی کشیدگی بڑھادی، روس

جمعرات 8 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روس نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ شمالی بحرِ اوقیانوس میں روسی پرچم والے آئل ٹینکر میرینیرا پر قبضہ کر کے امریکا نے فوجی و سیاسی کشیدگی کو ہوا دی ہے اور بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ بے قابو، وینزویلا کے بعد کس کا نمبر ہے؟

روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق، امریکی بحری افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں اس وقت ٹینکر کو اپنی تحویل میں لیا جب جہاز کسی بھی ریاست کی علاقائی حدود سے باہر تھا۔

وزارت کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران تقریباً سہ پہر تین بجے مقامی وقت پر جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

روسی حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سنہ 1982 کے اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے تحت کھلے سمندر میں جہاز رانی کی آزادی حاصل ہے اور کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک کے قانونی طور پر رجسٹرڈ جہاز کے خلاف طاقت استعمال کرے۔

روسی وزارتِ خارجہ نے بھی امریکی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ٹینکر پر موجود روسی شہریوں کے ساتھ انسانی اور باوقار سلوک کیا جائے، ان کے حقوق کا احترام کیا جائے اور انہیں فوری طور پر وطن واپس بھیجا جائے۔

روسی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق، میرینیرا، جس کا سابقہ نام بیلا-1 تھا، کو 24 دسمبر 2025 کو روسی پرچم کے تحت عارضی اجازت دی گئی تھی جو روسی اور بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ جہاز ماضی میں امریکا کی جانب سے وینزویلا پر عائد سمندری ناکہ بندی سے بچ نکلنے میں بھی کامیاب رہا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکی حملے میں 100 افراد ہلاک، وینزویلا کے وزیرِ داخلہ کا دعویٰ

دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی وفاقی عدالت کے وارنٹ کے تحت امریکی کوسٹ گارڈ اور فوج نے انجام دی اور اس کا مقصد وینزویلا کے تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا تھا۔

امریکی حکام نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ کارروائی کے وقت روسی بحری جہاز، جن میں ایک آبدوز بھی شامل تھی، عمومی علاقے میں موجود تھے تاہم کسی قسم کی براہِ راست جھڑپ پیش نہیں آئی۔

یہ کارروائی وینزویلا پر امریکی دباؤ میں اضافے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں حالیہ دنوں میں صدر نکولس مادورو کے خلاف بھی اقدامات کیے گئے جن پر امریکا کی جانب سے منشیات اسمگلنگ کے الزامات عائد ہیں تاہم وینزویلا کی قیادت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: وینزویلا تیل کی کمائی سے صرف امریکی مصنوعات خریدے گا، ٹرمپ کا اعلان

روسی حکام نے وینزویلا کی عبوری قیادت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے امریکی اقدامات کو کھلی نوآبادیاتی دھمکی اور غیر ملکی مسلح جارحیت قرار دیا ہے۔

اگرچہ صدر ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز کے بعد ماسکو اور واشنگٹن کے تعلقات میں قدرے بہتری دیکھی گئی ہے تاہم دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان تعلقات اب بھی نازک ہیں اور اس نوعیت کے فوجی واقعات شاذ و نادر ہی پیش آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور اہلیہ نیویارک کی عدالت میں پیش، فرد جرم عائد

تجزیہ کاروں کے مطابق آئل ٹینکر پر قبضے کا یہ واقعہ عالمی پابندیوں کے نفاذ، جہاز رانی کی آزادی اور اسٹریٹجک بحری راستوں میں بڑی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی مداخلت سے جڑے خطرات کو نمایاں کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں اسٹروک مینجمنٹ پروگرام، فالج کے مریضوں کے لیے نئی زندگی کی نوید

سرمد کھوسٹ کی فلم ’لالی‘ ، پاکستان کی پہلی مکمل فیچر فلم نے عالمی سینما میں دھوم مچا دی

بنگلہ دیش نے بھارتی اسپائس جیٹ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا

ایپسٹین کے مشیروں کیخلاف مقدمہ تصفیے پر منتج، ساڑھے 3 کروڑ ڈالر کی ادائیگی پر آمادگی

مودی سرکار کے بھارت میں اقلیتیں مسلسل احساسِ محرومی اور امتیازی سلوک کا شکار

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب