تحریک انصاف آج جس حال میں ہے اس پر سب سے آسان جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اس کے دشمن بہت ہیں۔ کوئی اسٹیبلشمنٹ کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے، کوئی عدلیہ کو، کوئی میڈیا کو اور کوئی پرانے سیاسی خاندانوں کو مگر تحریک انصاف کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف کی سب سے بڑی کمزوری اور دشمن ہمیشہ باہر ہی رہا ہے یا اندر بھی کوئی موجود ہے؟
اگر ایمانداری سے جواب تلاش کیا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ تحریک انصاف کا سب سے بڑا دشمن اکثر اس کی قیادت کا رویہ رہا ہے اور اس رویے کا مرکز خود عمران خان ہیں۔
عمران خان ایک مقبول، کرشماتی اور اثر انگیز لیڈر ہیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ مگر سیاست صرف مقبولیت کا نام نہیں، سیاست مستقل مزاجی، برداشت، ادارہ سازی اور مخالف رائے کو برداشت کرنے کا امتحان بھی ہے۔ عمران خان نے سیاست کو اکثر کرکٹ میچ سمجھا، جہاں یا تو جیت ہوتی ہے یا امپائر کو گالی۔
تحریک انصاف نے ابتدا میں تبدیلی، احتساب اور نئی سیاست کا نعرہ لگایا۔ مگر عملاً اس جماعت نے بھی وہی پرانی سیاست اپنائی جس پر وہ دوسروں کو کوستی رہی۔ الیکٹ ایبلز کو ٹکٹ دینا، نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کرنا، اور اقتدار کے لیے ہر طاقت ور دروازے پر دستک دینا یہ سب فیصلے خود تحریک انصاف نے کیے۔ اس کے بعد جب وہی دروازے بند ہوئے تو سارا الزام سازش پر ڈال دیا گیا۔
عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ وہ اختلاف کو دشمنی سمجھتے ہیں۔ جو ان سے سوال کرے وہ غدار، جو تنقید کرے وہ لفافہ اور جو ان سے الگ ہو جائے وہ بکاؤ مال بن جاتا ہے۔ یہ رویہ کسی انقلابی لیڈر کا نہیں بلکہ ایک ضدی فرد کا ہوتا ہے، جو اپنی ہر غلطی کو اصول اور ہر ناکامی کو سازش کہہ کر تسلی دے لیتا ہے۔
پارلیمان، جو جمہوریت کا بنیادی ادارہ ہے، عمران خان کی سیاست میں ہمیشہ مشکوک رہی۔ اسمبلیوں سے استعفے، پارلیمانی سیاست سے کنارہ کشی، اور سڑکوں پر سیاست کو واحد حل سمجھنا، یہ سب فیصلے تحریک انصاف کو مزید تنہا کرتے گئے۔ سوال یہ ہے کہ جو سیاست دان اداروں کو کمزور کرے، وہ کل کو کس سہارے پر کھڑا ہوگا؟
میڈیا کے ساتھ عمران خان کا تعلق بھی تضاد کا شکار رہا۔ جب میڈیا تعریف کرے تو آزاد، جب سوال کرے تو دشمن۔ یہ دوغلا معیار ایک سنجیدہ سیاسی جماعت کو زیب نہیں دیتا۔ میڈیا پر دباؤ، صحافیوں کو دھمکیاں، اور ہر خبر کو سازش کہنا، دراصل اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت نے کارکردگی کے میدان میں بھی مایوس کیا۔ معیشت، گورننس، مہنگائی اور بیروزگاری، ہر محاذ پر عوام کو ریلیف دینے میں ناکامی ہوئی۔ مگر اس ناکامی کا اعتراف کرنے کے بجائے مسلسل یہ کہا گیا کہ ہمیں کام نہیں کرنے دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اقتدار مانگنے سے پہلے یہ سب خطرات معلوم نہیں تھے؟
عمران خان کی سیاست کا ایک اور خطرناک پہلو معاشرے کی تقسیم ہے۔ انہوں نے سیاسی اختلاف کو اخلاقی جنگ بنا دیا۔ ایک طرف وہ خود کو حق، سچ اور ایمان کا نمائندہ قرار دیتے ہیں جبکہ دوسری طرف باقی سب کو چور، ڈاکو اور غدار۔ یہ بیانیہ وقتی طور پر ووٹ تو دلا سکتا ہے مگر قوم کو جوڑ نہیں سکتا۔
تحریک انصاف کے کارکن مخلص ہیں، پرجوش ہیں، مگر اکثر جذباتی بھی۔ انہیں یہ سکھایا گیا کہ لیڈر ہمیشہ درست ہوتا ہے اور سوال کرنا غداری ہے۔ یہ کلٹ کلچر کسی جمہوری جماعت کے لیے زہر قاتل ہوتا ہے۔
آج اگر تحریک انصاف مشکلات میں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے ساتھ زیادتی نہیں ہوئی۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ ہر بحران کی ذمہ داری صرف دوسروں پر ڈال دینا خود فریبی ہے۔ جو لیڈر خود احتسابی سے گریز کرے، وہ قوم کا احتساب کیسے کرے گا؟
تحریک انصاف کا اصل دشمن کوئی ایک ادارہ یا جماعت نہیں، بلکہ وہ سیاست ہے جو انا، ضد اور مسلسل تصادم پر کھڑی ہو۔ جب تک عمران خان اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کرتے، اداروں سے لڑنے کے بجائے سیاست سیکھنے پر آمادہ نہیں ہوتے اور اپنے کارکنوں کو جذبات کے بجائے شعور نہیں دیتے، تب تک تحریک انصاف اپنے ہی سائے سے لڑتی رہے گی۔
سیاست میں دشمن باہر کم اور اندر زیادہ ہوتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ تحریک انصاف کا دشمن کون ہے، سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف اپنے پاؤں پر کلہاڑوں کے وار کرنے کا سلسلہ کب بند کرے گی؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













