امریکا نے بھارت کی قیادت میں قائم انٹرنیشنل سولر الائنس سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے عالمی سطح پر بھارت کے قابلِ تجدید توانائی میں قائدانہ کردار کے دعووں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 66 بین الاقوامی تنظیموں سے دستبرداری کے فیصلے میں انٹرنیشنل سولر الائنس واحد واضح طور پر بھارت کی قیادت میں قائم ادارہ ہے، جس سے امریکا نے خود کو الگ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کی کس غلطی کی وجہ سے بھارت امریکا معاہدہ کھٹائی میں پڑا، امریکی وزیر تجارت نے بتادیا
انٹرنیشنل سولر الائنس بھارت اور فرانس کے اشتراک سے 2015 میں قائم کیا گیا تھا اور اس کا صدر دفتر گروگرام میں واقع ہے۔ بھارتی حکومت اس اتحاد کو اپنی نام نہاد سولر سپر پاور حیثیت کے ثبوت کے طور پر پیش کرتی رہی ہے، تاہم امریکی فیصلے نے ان دعووں کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اس اتحاد کا مقصد ترقی پذیر ممالک میں شمسی توانائی کے منصوبوں کے لیے 1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو متحرک کرنا تھا، جس میں امریکی شمولیت اور مالی تعاون کو کلیدی حیثیت حاصل تھی۔ امریکا کی علیحدگی کے بعد الائنس کو مالی اور سفارتی سطح پر ساکھ کے بحران کا سامنا ہے۔
اگرچہ امریکی فیصلے کو عالمی ایجنڈوں اور سخت موسمیاتی پالیسیوں سے لاتعلقی کے تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے، تاہم اس کے بھارت کے لیے اثرات واضح ہیں۔ بھارت طویل عرصے سے ترقی یافتہ ممالک پر موسمیاتی مالی معاونت کی ذمہ داری پوری کرنے پر زور دیتا رہا ہے، مگر امریکی اقدام اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ بھارت کی کثیرالجہتی موسمیاتی سفارت کاری عالمی اسٹریٹجک ترجیحات سے ہم آہنگ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’مودی ٹرمپ اور امریکا سے خوفزدہ ہیں ‘، راہول گاندھی کی بھارتی وزیرِاعظم پر تنقید
ماہرین کے مطابق مسلسل تشہیری مہمات اور خود ساختہ عالمی قائدانہ دعوؤں کے باوجود، امریکی فہرست میں انٹرنیشنل سولر الائنس کی شمولیت اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ بھارت کی موسمیاتی قیادت عملی کم اور نمائشی زیادہ ہے۔ امریکا کے اس فیصلے نے واضح پیغام دیا ہے کہ واشنگٹن اب بھارت کی موسمیاتی کثیرالجہتی حکمت عملی کو قابلِ اعتماد یا اسٹریٹجک طور پر ہم آہنگ نہیں سمجھتا۔














