8 فروری احتجاج سے متعلق ابھی کچھ حتمی نہیں، فیصلہ ہونا باقی ہے، لطیف کھوسہ

ہفتہ 10 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ پارٹی کے 8 فروری کے احتجاج سے متعلق ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا تاہم اس حوالے سے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: اسپیکر نے عمران خان سے ملاقات کی یقین دہانی کروائی، ایاز صادق فارم 47 والے نہیں، لطیف کھوسہ کا وی نیوز کو خصوصی انٹرویو

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے لطیف کھوسہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف 8 فروری کو عوامی احتجاج اور سڑکوں پر تحریک کے لیے مکمل تیاری کر رہی ہے تاہم احتجاج کی حتمی حکمتِ عملی پارٹی کے پارلیمانی اجلاس اور اندرونی مشاورت کے بعد طے کی جائے گی۔

لطیف کھوسہ نے بتایا کہ عمران خان سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست جمع کروائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اس سے قبل بھی عدالت میں درخواستیں اور توہینِ عدالت کی درخواستیں دائر کر چکی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالت کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے منگل کا دن اہلخانہ اور وکلا جبکہ جمعرات کا دن پارٹی رہنماؤں کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فل بینچ نے دیا تھا، تاہم اس پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں نئے سال کی تعطیلات اور دیگر وجوہات کے باعث بعض امور زیرِ التوا ہیں تاہم جلد نئی درخواست جمع کرائی جائے گی۔ لطیف کھوسہ نے امید ظاہر کی کہ عمران خان سے ملاقات ضرور ہوگی۔

اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پی ٹی آئی کے لیے قائم کی گئی کمیٹی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارٹی رہنماؤں کی اسپیکر ایاز صادق سے ملاقات ضرور ہوئی ہے جس میں پارٹی اور حکومتی نمائندے شریک تھے جبکہ رانا ثنا اللہ بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر گوہر اور وہ خود بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ ہر ہفتے ملاقات ہونی چاہیے جبکہ انہوں (اسپیکر) نے یقین دہانی کروائی کہ وہ بذات خود حکومتی نمائندوں سے بات کر کے عمران خان سے ملاقات یقینی بنانے کی کوشش کریں گے۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ اسپیکر ایاز صادق سے 12 جنوری کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوگا جس میں ایاز صادق سے پیشرفت لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’ایاز صادق نے کہا کہ بجائے آپ کہیں اور جائیں میں ہی اس معاملے میں آپ کی مدد کروں گا کیوں کہ اسپیکر نیوٹرل ہوتا ہے، اجلاس میں قومی اسمبلی کے اہم رہنما، بشمول ایاز صادق اور محمود خان، بھی شامل ہوں گے اور قائد حزب اختلاف کے لیے حتمی لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا‘۔

کیا عمران خان سے ملاقات کے لیے مذاکرات ہی آخری حل ہے؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ آخری حل نہیں ہے، معاملہ عدالت میں ہے اور عدالت بغیر وکلا کے نہیں چل سکتی، انہوں نے عمران خان کو اوپر نیچے سزا دے دی، فل حال ان کی تشفی ہوگئی ہے، اب چونکہ عدالت میں چھٹیاں ختم ہو رہی ہیں تو ہماری درخواستوں پر بھی سماعت ہوگی۔

مزید پڑھیے: فیصلہ سازی کور کمیٹی کرتی ہے، علیمہ خان یا گنڈاپور کا سیاسی کردار نہیں، لطیف کھوسہ

پی ٹی آئی کی مشکلات کم کرنے اور عمران خان سے ملاقات کے لیے کیا صدر آصف علی زرداری کوئی کردار ادا کرسکتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں لطیف کھوسہ نے کہا کہ سہیل آفریدی سندھ کے دورے پر ہیں، مراد علی شاہ نے انہیں خوش آمدید کہا ہے اور کہا ہے کہ کھانے پر مدعو کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے وزرا بھی مثبت بیانات دے رہے ہیں، ظاہر ہے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے دورہ کراچی پر سیاست ہی کی باتیں ہوں گی، دیکھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی سہیل آفریدی کو کتنی پذیرائی دیتی ہے۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’کرنے کو تو صدر آصف علی زرداری کردار ادا کرسکتے ہیں، ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ ہمارا مینڈیٹ تسلیم کرو، ہم نواز شریف کو بھی یہی کہتے ہیں کہ انہوں نے جو ووٹ کو عزت دو نعرہ لگایا تھا تو خدارا ووٹ کو عزت دیں اور ہمارا مینڈیٹ واپس کریں‘۔

انہوں نے کہا کہ 8 فروری کے انتخابات کو 2 سال ہونے کو ہیں، عوام ہم سے پوچھتے ہیں کہ ہم نے آپ کو مینڈیٹ دیا تو آپ نے اس پر ڈاکا کیوں مارنے دیا۔

مزید پڑھیں: ’عمران خان کی ممکنہ رہائی‘، فیصل واوڈا اور لطیف کھوسہ کا ایک دوسرے کو چیلنج

لطیف کھوسہ نے کہا کہ احتجاج کا بنیادی مقصد عوامی مینڈیٹ کی بحالی اور ووٹ کی عزت ہے۔ انہوں نے سابق صدر آصف علی زرداری کے کردار کے امکان کو بھی تسلیم کیا تاہم واضح کیا کہ حکومت کے قیام کے بعد پارٹی کے مطالبات میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اور پارٹی کے ایم این ایز نے لکھ کر ایاز صادق کو بتایا ہے کہ محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور علامہ ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے حوالے سے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس ہی فیصلہ کریں گے کہ کس قسم کا احتجاج ہوگا، 12 جنوری کو ہی اس حوالے سے ہماری پارلیمانی پارٹی کی نشست بھی ہوگی جس میں گفت و شنید بھی ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب اور سندھ سمیت تمام صوبوں کے پارلیمانی نمائندوں اور پارٹی قیادت کے مشورے کے بعد احتجاج کی مکمل منصوبہ بندی کی جائے گی اور تمام پارٹی کارکنان کو یکساں طور پر متحرک کیا جائے گا۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ تحریک مکمل طور پر پرامن ہوگی اور اس کا مقصد صرف عوامی مینڈیٹ کی حفاظت اور جمہوری حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی احتجاج کے لیے تیار، مگر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ماضی کے تجربات سے محتاط رہنے کے حامی

آخر میں انہوں نے کہا کہ 12 جنوری کو پارلیمانی اجلاس میں حتمی حکمت عملی طے ہوگی اور اس کے بعد ملک گیر احتجاج کے لیے ہر صوبے میں مکمل موبلائزیشن کی جائے گی اور حتمی فیصلہ رواں ماہ میں ہی ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp