بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں اہم تبدیلی سامنے آ گئی ہے، پارٹی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے متفقہ طور پر طارق رحمان کو پارٹی کا نیا چیئرمین مقرر کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈھاکا: پاکستان کے ہائی کمشنر کی بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان سے ملاقات
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے طارق رحمان کی بطور چیئرمین تقرری کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ جمعہ کی شب پارٹی کے گلشن دفتر میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اس فیصلے کی تصدیق کی۔

بی این پی کے چیئرمین کا عہدہ سابق وزیر اعظم اور پارٹی سربراہ بیگم خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد خالی ہوا تھا۔ پارٹی آئین کے مطابق اس خلا کو پُر کرنے کے لیے اسٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا، جس میں متفقہ طور پر طارق رحمان کو پارٹی کی قیادت سونپنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کے امیر کی طارق رحمان سے ملاقات، بی این پی کے ساتھ تعاون پر آمادگی کا اظہار
پارٹی ذرائع کے مطابق طارق رحمان نے سیاسی جدوجہد کا آغاز اپنی والدہ کے ساتھ جنرل ارشاد کے خلاف تحریک کے دوران کیا۔ وہ 1988 میں بی این پی میں باقاعدہ طور پر شامل ہوئے اور 1991 کے انتخابات سے قبل بیگم خالدہ ضیا کے ہمراہ ملک بھر میں انتخابی مہم چلائی۔
2002 میں انہیں بی این پی کا سینیئر جوائنٹ سیکریٹری نامزد کیا گیا جبکہ 2009 میں وہ پارٹی کے سینیئر نائب چیئرمین منتخب ہوئے۔ 2018 میں بیگم خالدہ ضیا کی قید کے بعد طارق رحمان کو قائم مقام چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ 2007 میں ون الیون دور کے دوران گرفتاری کے بعد وہ علاج کی غرض سے بیرون ملک چلے گئے تھے اور تقریباً 17 سال بعد 25 دسمبر 2025 کو وطن واپس آئے۔ اب ان کی بطور چیئرمین تقرری کے بعد بی این پی کی قیادت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔













