ڈھاکہ پولیس نے بی این پی کے حامی رضاکار رہنما عزیز الرحمٰن المعروف مسبر کے قتل میں ملوث 3 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں مبینہ قاتل اور منصوبہ ساز بھی شامل ہیں۔ گرفتاریاں مانیک گنج اور گازی پور اضلاع میں ڈٹیکٹو برانچ (ڈی بی) کی چھاپوں کے دوران عمل میں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین مقرر
ڈھاکہ کے ویسٹ ٹیجٹوری بازار علاقے میں گزشتہ بدھ کی رات بی این پی کی اتحادی تنظیم، سواچھہ سیبک دل کے سابق جنرل سیکریٹری 44 سالہ عزیز الرحمان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور واقعے کے فوراً بعد فرار ہو گئے تھے اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق مقتول حملہ آوروں کو جانتا تھا۔

گرفتار کیے جانے والے 3 افراد میں گن مین زینت، مبینہ ماسٹر مائنڈ بلال اور ایک ساتھی شامل ہیں۔ مقتول کی اہلیہ، سوریہ اختر نے قتل کے واقعے کے بعد 4 سے 5 نامعلوم افراد کے خلاف ٹیجگان تھانے میں مقدمہ درج کروایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تنازع بڑھ گیا، ڈھاکہ میں آئی پی ایل کی نشریات پر پابندی عائد
پولیس نے مزید تحقیقات جاری رکھنے اور ممکنہ طور پر مزید گرفتاریاں ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اس قتل کے بعد بی این پی سے وابستہ کارکنان میں تشویش پائی جا رہی ہے۔












