بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان کرکٹ تعلقات میں کشیدگی نے ایک نیا موڑ اختیار کر لیا ہے، کیونکہ ڈھاکہ نے بھارت میں ہونے والی آئی پی ایل کی نشریات روکنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
بنگلادیش حکومت نے اس سلسلے میں باقاعدہ سرکاری نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے ٹیم بھارت نہیں بھیجیں گے، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا بڑا اعلان
یہ اقدام اس کشیدگی کے تسلسل میں سامنے آیا ہے جو اس سے قبل بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان پیدا ہوئی تھی۔
اس سے قبل بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اپنی قومی ٹیم کو ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے بھارت بھیجنے سے انکار کر دیا تھا اور اس بارے میں آئی سی سی کو بھی خط لکھ کر آگاہ کیا تھا۔
بنگلہ دیشی بورڈ نے کہاکہ بھارت میں کھلاڑیوں اور صحافیوں کی سلامتی کے حوالے سے خطرات موجود ہیں، اس لیے ان کے میچز سری لنکا میں منتقل کیے جائیں۔
بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں حالیہ کشیدگی میں اضافہ اس وقت ہوا جب بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل اسکواڈ سے خارج کر دیا گیا۔
کولکتہ نائٹ رائیڈرز جو شاہ رخ خان کی ملکیت میں ہے، نے بی سی سی آئی کی ہدایت پر انہیں اسکواڈ سے نکال دیا۔ مستفیض الرحمان کو ابوظہبی میں ہونے والی نیلامی میں 9 کروڑ 20 لاکھ بھارتی روپے میں خریدا گیا تھا۔
واضح رہے کہ یہ صورتحال بھارت اور پاکستان کے تعلقات کی طرح کی ایک مثال بھی پیش کرتی ہے۔ بھارت نے گزشتہ چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان میں ہونے والے میچز میں حصہ لینے سے انکار کیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان میچز نیوٹرل وینیو پر کرانے کا معاہدہ طے پایا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان، شاہد آفریدی بول پڑے
اسی معاہدے کے تحت پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ میں اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف کرکٹ کے شائقین کے لیے ناپسندیدہ ہیں بلکہ بین الاقوامی کرکٹ کے تعلقات پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔














