اسلام آباد میں حالیہ درختوں کی کٹائی پر عوامی احتجاج کے بعد حکومت نے وضاحت پیش کی ہے کہ یہ اقدام جنگلات کی کٹائی نہیں بلکہ ماحولیاتی بحالی اور صحت کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔
دارالحکومت میں ہزاروں درخت کاٹنے کا عمل جنگلات کی کٹائی نہیں بلکہ ماحولیاتی بحالی کے لیے کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ تقریباً 29 ہزار پیپر مل بیری کے درخت ہٹائے گئے جو الرجی اور دمے کا باعث بنتے ہیں، مصدق ملک pic.twitter.com/tOAF46kKhS
— Muqadas Farooq Awan (@muqadasawann) January 10, 2026
وزیرِ موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں تقریباً 29 ہزار پیپر مل بیری کے درخت ہٹائے گئے، جو الرجی اور دمے کا باعث بنتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ کارروائی سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق کی گئی اور اس کا مقصد ماحول کو مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر کٹے ہوئے درخت کے بدلے 3 نئے پودے لگائے جا رہے ہیں، جو مقامی اقسام کے ہیں، تاکہ شہر کا ماحولیاتی توازن برقرار رہے۔
سی ڈی اے کے مطابق شکرپڑیاں، H-8 اور چک شہزاد میں جو درخت کاٹے گئے، ان میں 90 فیصد سے زائد پیپر مل بیری کے تھے، تاہم شہریوں نے شکایت کی کہ پرانے اور صحت مند درخت بھی متاثر ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پر سوشل میڈیا کی غلط مہم، سی ڈی اے نے مؤقف واضح کر دیا
حکام نے بتایا کہ صحت کی وزارت نے بھی پیپر مل بیری کے درختوں کو اسلام آباد میں الرجی کی بڑی وجہ قرار دیا ہے، اور کٹے گئے درختوں کی جگہ پھلدار اور مقامی چیڑ کے درخت لگانے کا منصوبہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی، پولن الرجی سے نجات یا نیا ماحولیاتی بحران؟
آن لائن تنقید کے بعد سی ڈی اے نے جنوری میں ہی شجرکاری مہم شروع کر دی، جس میں سردیوں کے دوران پودوں کی بقا پر سوالات اٹھے۔ سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ چیڑ جیسے درخت سردیوں میں بھی لگائے جا سکتے ہیں اور مہم کے تحت 30 ہزار پودے لگانے کا ہدف ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ سی ڈی اے، ای پی اے اور اسلام آباد وائلڈ لائف بورڈ کے درمیان بہتر رابطے سے ماحولیاتی اہداف حاصل کیے جائیں گے۔












