وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں وفاق کے زیر اہتمام ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کردیا۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندگان نے ملاقات کی۔
مزید پڑھیں: وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کو کتنے کھرب روپے دیے گئے؟ وزارتِ خزانہ نے رپورٹ جاری کردی
ملاقات کے دوران صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال اور عوام کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں اور گورننس سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔
وزیراعظم نے کہاکہ ہمیں خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل کا مکمل ادراک ہے اور وفاقی حکومت اپنے دائرہ اختیار کے تحت ان مسائل کے پائیدار حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں جاری وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوامی مسائل کا حل وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
شرکا نے ملاقات میں بتایا کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور گورننس کے معاملات غیر مؤثر ہیں۔
’صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور عوامی فلاح کے حوالے سے حکومت کی کوئی واضح پالیسی موجود نہیں، اور عوامی مسائل پر حکومت کی توجہ بھی نہیں ہے۔‘
وزیراعظم شہباز شریف نے عوامی نمائندوں پر زور دیا کہ وہ عوامی مسائل کے حل کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔
انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل ہری پور میں پورے صوبے کے طلبہ و طالبات میں میرٹ کی بنیاد پر لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے، اور ان نوجوانوں سے ملاقات کر کے خوشی ہوئی۔
وزیراعظم نے کہاکہ یہی نوجوان پاکستان کے مستقبل کا اثاثہ ہیں اور آئندہ بھی میرٹ کی بنیاد پر لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی پالیسی جاری رہے گی تاکہ ملک کی ترقی میں نوجوان اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم سے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنماؤں کی ملاقات
وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں وفاق کے زیر اہتمام ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا، جو پشاور کا دورہ کرے گی اور عوامی نمائندگان سے ملاقات کے بعد منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لے گی۔
ملاقات میں ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطاللہ تارڑ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر، بابر نواز ایم این اے، ثمر بلور ایم این اے، اختیار ولی (کوآرڈینیٹر وزیراعظم اور دیگر شریک تھے۔














