مارگلہ کے سائے میں اسموگ کا راج: کیا ہم نے اپنا ’گرین سٹی‘ کھو دیا؟

اتوار 11 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ماحولیاتی تبدیلی کے ماہر درشہوار نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی، اونچی عمارتوں کی تعمیر، نئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور بڑھتی ہوئی اسموگ ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ اگرچہ ترقی ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ماحول دوست منصوبہ بندی اور گرین انفراسٹرکچر بھی ناگزیر ہے۔

وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دنیا میں گرین اربن انفراسٹرکچر اور نیچر بیسڈ سلوشنز پر کام ہورہا ہے، لیکن پاکستان میں تعمیرات اب بھی ماحول دوست اصولوں سے بڑی حد تک لاتعلق ہیں۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی، حکومت نے ماحولیاتی بحالی کے لیے وضاحت دے دی

’ایک درخت کاٹ کر اس کی جگہ نیا درخت لگانا وقت طلب عمل ہے، اس خلا کو ماحول دوست ڈیزائن کے ذریعے ہی پُر کیا جا سکتا ہے‘۔

انہوں نے کہاکہ پانی کے تحفظ پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ ہمارے دریا اور آبی ذخائر نالوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ دنیا میں ریور ریسٹوریشن کے کامیاب ماڈلز موجود ہیں، جن سے ہم سیکھ سکتے ہیں۔ پانی ایک اجتماعی وسیلہ ہے، اسے ذاتی ملکیت سمجھ کر بے دریغ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

’آلودگی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں، بڑے شہروں میں مؤثر ماس ٹرانزٹ سسٹم ناگزیر ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ، کار پولنگ اور رویوں میں تبدیلی کاربن ایمیشن کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے‘۔

درِ شہوار نے کہاکہ انسانی سرگرمیوں، بے ہنگم اربنائزیشن، صنعتی آلودگی اور جنگلات کی کٹائی کے باعث گرین ہاؤس گیسز میں اضافہ ہوا، جس سے دہائیوں پرانے موسمی پیٹرنز تبدیل ہوچکے ہیں۔ پاکستان کی منفرد جغرافیائی ساخت جس میں پہاڑی سلسلے، گلیشیئرز، زرعی میدان، صحرائی علاقے اور ساحلی پٹیاں شامل ہیں اسے موسمیاتی خطرات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔

درِ شہوار کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں گلاف (گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈز)، شدید بارشیں، شہری سیلاب، ہیٹ ویوز اور اسموگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان غریب اور کمزور طبقے کو ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں اب ماحولیاتی تبدیلی کو ریورس کرنے کے بجائے ایڈاپٹیشن اور پریپیرڈنس پر توجہ دی جا رہی ہے، تاہم جنوبی ایشیا کے ممالک کو کلائمیٹ فنانس، جدید ٹیکنالوجی اور عوامی آگاہی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

اسلام آباد میں بڑھتی ہوئی تعمیرات، درختوں کی کٹائی اور اسموگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ترقی ضروری ہے، لیکن ماحول دوست گرین اربن انفراسٹرکچر اور نیچر بیسڈ سلوشنز کے بغیر یہ ترقی ماحولیاتی مسائل کو مزید بڑھا دے گی۔

زرعی شعبے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فصلوں کی کاشت اور کٹائی کے موسم 20 سے 25 دن تک تبدیل ہو چکے ہیں، جس سے کسان براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ کلائمیٹ اسمارٹ ایگری کلچر، جدید آبپاشی نظام، کلائمیٹ ریزیلینٹ بیج اور زرعی انشورنس جیسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

کلائمیٹ جسٹس کے حوالے سے دورِ شہوار نے کہاکہ اگرچہ بعض یورپی ممالک کلائمیٹ فنانس میں سنجیدہ کردار ادا کررہے ہیں، تاہم کئی بڑے آلودگی پھیلانے والے ممالک اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے، جس کی وجہ سے متاثرہ ممالک کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی، پولن الرجی سے نجات یا نیا ماحولیاتی بحران؟

انہوں نے حکومت پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہاکہ کلائمیٹ چینج ایکٹ، وزارت، اتھارٹی اور پالیسیاں موجود ہیں، تاہم اصل چیلنج صوبائی اور ضلعی سطح پر مؤثر عملدرآمد ہے۔

آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بطور ذمہ دار شہری توانائی اور پانی کے استعمال میں احتیاط، شجرکاری، فوڈ ویسٹ میں کمی، پبلک ٹرانسپورٹ اور کار پولنگ جیسے اقدامات کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اپنا کردار ادا کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تیکناف سرحد سے گرفتار تمام 53 افراد کیمپوں میں مقیم روہنگیا مہاجر نکلے، بنگلہ دیشی سرحدی فورسز

کوئٹہ: سرکاری ملازمین کی احتجاجی تحریک کا دوسرا مرحلہ شروع، 15 جنوری کو لاک ڈاؤن کا اعلان

امریکی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، گرین لینڈ کا دوٹوک مؤقف

پیپلزپارٹی کا احتجاج: حکومت نے اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس واپس لے لیا

بنگلہ دیش کی سخت شرائط کے تحت غزہ بین الاقوامی فورس میں شمولیت پر آمادگی

ویڈیو

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

ٹھیلے سے ریسٹورنٹ تک، سوشل میڈیا کے بل بوتے پر کامیابی کی انوکھی کہانی

’باادب بامراد‘: شاگردوں کا استاد کے لیے بے مثال احترام، گاڑی بطور تحفہ پیش کردی

کالم / تجزیہ

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘

تحریک انصاف کا دشمن کون؟