خارجہ، دفاعی اور تعلیم کے شعبوں میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات حالیہ مہینوں میں نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے بلکہ عالمی امن و استحکام میں اس کے تعاون کو اہم قرار دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں پاکستان کے فوجی اور سیاسی رہنماؤں کے ساتھ متعدد ملاقاتوں کے دوران ٹرمپ نے کہاکہ پاکستان نے خطے میں امن قائم رکھنے اور دہشتگردی کے خلاف لڑائی میں اہم شراکت داری کی ہے، اور اگر وہ کچھ بھی کر سکتا ہے تو وہ ہر ممکن مدد کے لیے موجود ہے۔
ٹرمپ نے خاص طور پر پاکستانی قیادت وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ’زبردست لوگ‘ قرار دیا اور ان کے تعاون کو سراہا جو پاکستان نے بھارت کے ساتھ سرحدی کشیدگی کو کم کرنے میں دکھایا۔
یہ سیاسی و سفارتی پیشرفت پاکستان کے لیے خارجی، دفاعی اور تعلیمی شعبوں میں نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔
پاکستان کو ان بڑھتے تعلقات سے مستقبل میں کتنا فائدہ ہو سکتا ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔
’پاکستان کے لیے امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات کے کئی فوائد ہو سکتے ہیں‘
دفاعی تجزیہ کار خالد نعیم لودھی کے مطابق امریکا اس وقت دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور ہے اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی وہ بیشتر ممالک سے آگے ہے۔ موجودہ عالمی منظرنامے میں صرف چین ہی ایسا ملک ہے جو امریکا کو سنجیدہ چیلنج دے رہا ہے، جبکہ دیگر ممالک کو امریکا کے لیے کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کے لیے امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات کے کئی فوائد ہو سکتے ہیں، خصوصاً اقوامِ متحدہ اور عالمی اداروں میں تعاون کے مواقع میسر آ سکتے ہیں۔ تاہم وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان کو چین کے ساتھ اپنی دیرینہ دوستی کو ترجیح دینی چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ چین وہ ملک ہے جو مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا، پاکستان کو ٹیکنالوجی فراہم کی اور مختلف شعبوں میں عملی تعاون کیا۔ اس تناظر میں پاکستان کو امریکا کے ساتھ تعلقات استوار کرتے وقت نہایت احتیاط سے کام لینا چاہیے۔
خالد نعیم لودھی خبردار کرتے ہیں کہ پاکستان کو ایسے کسی اقدام یا معاہدے سے گریز کرنا چاہیے جس پر چین کو اعتراض ہو سکتا ہو۔ چین کی سفارت کاری کو انتہائی باریک اور محتاط قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہ اکثر کھل کر ردعمل ظاہر نہیں کرتا، لیکن اس کے رویے اور سفارتی تیور بہت کچھ واضح کر دیتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی سیاست میں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ چین کے ساتھ دشمنی خطرناک ہو سکتی ہے، لیکن بعض ماہرین کے مطابق امریکا کے ساتھ اندھی دوستی بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی لیے پاکستان کو متوازن، محتاط اور قومی مفاد پر مبنی خارجہ پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔
’پاک امریکا تعلقات کی مضبوطی تعلیمی شعبے کے لیے خوش آئند قرار‘
ایجوکیشن ایکسپرٹ پرویز خان کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات تعلیمی شعبے کے لیے نہایت خوش آئند اور دور رس نتائج کے حامل ثابت ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وقتاً فوقتاً پاکستان کا مثبت انداز میں ذکر اور پاکستان کی صلاحیتوں کو سراہا جانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکا پاکستان کو ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے، خاص طور پر تعلیم اور نوجوانوں کی ترقی کے میدان میں۔
پرویز خان کے مطابق امریکی سفیر کی جانب سے یہ بیان کہ یو ایس ای ایف پی (USEFP) کا سب سے بڑا پروگرام پاکستان میں جاری ہے، اس اعتماد کا واضح اظہار ہے جو امریکا پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں پر رکھتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے پاکستانی نوجوانوں کو تعلیم، تربیت اور جدید مہارتیں فراہم کرنے کا عزم پاکستان کے انسانی وسائل کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مثبت تعلقات کے نتیجے میں تعلیمی وظائف، ایکسچینج پروگرامز، اسکالرشپس، اساتذہ کی تربیت اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
’اس سے نہ صرف پاکستانی طلبہ کو عالمی تعلیمی اداروں تک رسائی حاصل ہوگی بلکہ پاکستان کے تعلیمی نظام میں جدید تحقیق، ٹیکنالوجی اور اختراعی سوچ کو فروغ ملے گا۔‘
’ان تعلقات کا سب سے بڑا فائدہ پاکستانی نوجوانوں کوہوگا‘
پرویز خان کے مطابق ان تعلقات کا سب سے بڑا فائدہ پاکستان کے نوجوانوں کو ہوگا، جو عالمی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق ہنر مند بن سکیں گے۔
انہوں نے کہاکہ مستقبل میں پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائنس، انجینیئرنگ اور جدید علوم کے شعبوں میں امریکا کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے اپنی تعلیمی بنیاد کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
پرویز خان کا کہنا ہے کہ اگر ان تعلقات کو مستقل مزاجی اور شفاف پالیسی کے تحت آگے بڑھایا جائے تو پاکستان نہ صرف تعلیمی اعتبار سے خود کو خطے میں ممتاز بنا سکتا ہے بلکہ ایک ایسا ہنر مند اور تعلیم یافتہ معاشرہ تشکیل دے سکتا ہے جو ملکی معیشت، برآمدات اور عالمی ساکھ میں اضافے کا سبب بنے۔
ان کے مطابق تعلیم کے شعبے میں مضبوط پاک امریکا تعلقات پاکستان کے روشن اور مستحکم مستقبل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
’مئی کی جنگ میں فتح نے پاکستان کو عالمی سطح پر ممتاز کردیا‘
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے خارجی امور پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار فیضان ریاض نے کہاکہ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی کشیدگی کے دوران پاکستان نے ذمہ دارانہ، محتاط اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا، جس سے عالمی سطح پر ملک کی دفاعی صلاحیت اور سیاسی بلوغت مثبت انداز میں اجاگر ہوئی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا نپا تلا فوجی ردِعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک خطے میں امن و استحکام کے ساتھ ساتھ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
فیضان ریاض کے مطابق اس صورتحال کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں پائے جانے والے تاثر میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ بھارت کی وہ بیانیہ سازی کمزور ہوئی ہے جو پاکستان کو مسلسل منفی تناظر میں پیش کرنے پر مبنی تھی۔
’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مختلف مواقع پر بھارتی جنگی طیاروں سے متعلق بیانات نے عالمی میڈیا کی توجہ خطے میں طاقت کے توازن کی طرف مبذول کرائی، جس سے پاکستان کو سفارتی محاذ پر اپنے مؤقف کو زیادہ مؤثر انداز میں پیش کرنے کا موقع ملا۔‘
انہوں نے کہاکہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں امریکا کے جنوبی ایشیا سے متعلق رویّے میں لچک اور حقیقت پسندی کے عناصر نمایاں ہو رہے ہیں۔
ان کے مطابق امریکا اور بھارت کے تعلقات زیادہ تر چین کے تناظر میں اسٹریٹیجک نوعیت کے حامل ہیں، جبکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں معاشی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔
’خاص طور پر پاکستان میں ریئر ارتھ ایلیمنٹس جیسے قیمتی معدنی وسائل میں امریکی دلچسپی ملک کے لیے سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کے نئے دروازے کھول سکتی ہے، جن کے ذخائر بلوچستان، ساحلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں موجود ہیں۔‘
’پاکستان اب زیادہ بہتر انداز میں فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘
فیضان ریاض کے مطابق پاکستان ماضی کے تجربات کی روشنی میں اب زیادہ محتاط، حقیقت پسندانہ اور باخبر فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ افغان جنگ کے تجربے سے پاکستان نے اہم اسباق حاصل کیے ہیں، جس کے بعد ملکی پالیسی اس سمت میں آگے بڑھ رہی ہے کہ کسی بھی بڑی طاقت کے ساتھ یک طرفہ انحصار کے بجائے برابری، تعاون اور باہمی مفاد پر مبنی تعلقات استوار کیے جائیں۔
انہوں نے کہاکہ امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی عالمی مسابقت کے باوجود پاکستان کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ ایک متوازن اور فعال کردار ادا کرے۔
’چین کے ساتھ پاکستان کی دیرینہ شراکت داری، بالخصوص چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)، دفاعی تعاون اور سفارتی ہم آہنگی، پاکستان کے جیو اکنامک وژن کا ایک مضبوط ستون ہیں، جنہیں قومی سلامتی پالیسی 2022 تا 2026 میں بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔‘
’پاکستان بلاک کی سیاست کا حصہ بننے سے گریز کرے‘
فیضان ریاض کے مطابق پاکستان کی بہترین حکمتِ عملی یہی ہے کہ وہ بلاک سیاست کا حصہ بننے کے بجائے تعاون پر مبنی شراکت داریوں کو فروغ دے اور امریکا، چین سمیت تمام اہم عالمی قوتوں کے ساتھ متوازن، تعمیری اور باوقار تعلقات قائم رکھے۔
ان کے مطابق یہی حکمتِ عملی پاکستان کو خطے میں ایک ذمہ دار ریاست اور عالمی معیشت میں ایک مؤثر شراکت دار کے طور پر مزید مستحکم کرے گی۔














