لندن میں ایران کے سفارتخانے کے سامنے احتجاج کے دوران مظاہرین نے سفارتخانے کی بالکونی پر چڑھ کر اسلامی جمہوریہ ایران کا پرچم اتار دیا اور اسے 1979 سے پہلے استعمال ہونے والے ’شیر و خورشید‘ پرچم سے بدل دیا۔ یہ احتجاج ایران میں جاری ملک گیر مظاہروں کے ردِ عمل میں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کے جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی کا عوامی بغاوت کا اعلان، تہران واپسی کی تیاری
مظاہرین نے سفارتخانے کی بالکونی تک پہنچ کر موجودہ اسلامی جمہوریہ کا پرچم ہٹا کر شاہی دور کا سہ رنگی ’شیر و خورشید‘ پرچم نصب کیا، جو ایران میں 1979 کی انقلاب سے پہلے استعمال ہوتا تھا۔ گواہوں کے مطابق یہ پرچم چند منٹوں تک برقرار رہا اور پھر دوبارہ ہٹا دیا گیا۔
Protester scales Iranian Embassy in London, tears down regime flag, hoists pre-revolution symbol https://t.co/6f3MAXjeju pic.twitter.com/aKYDO1cg4c
— New York Post (@nypost) January 11, 2026
ویڈیو اور سوشل میڈیا پوسٹس میں دیکھا گیا کہ ایک شخص بالکونی پر کھڑا تھا اور موجودہ پرچم کو پرانے پرچم سے بدل رہا تھا۔ لندن پولیس نے بتایا کہ واقعے کے بعد اضافی افسران کو تعینات کیا گیا تاکہ کسی بھی قسم کے انتشار کو روکا جا سکے اور سفارتخانے کی حفاظت کی جا سکے۔
پولیس نے 2 افراد کو گرفتار کیا، ’ایک کو شدید تجاوز اور ہنگامی اہلکار پر حملے‘ کے الزام میں اور دوسرے کو ’شدید تجاوز‘ کے الزام میں جبکہ ایک اور شخص کی تلاش جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مظاہروں کی آڑ میں بیرونی مداخلت ناقابلِ قبول، ایرانی فوج اور آئینی کونسل کا دوٹوک مؤقف
یہ احتجاج ایران میں اقتصادی مشکلات اور مغربی پابندیوں کے بعد ایرانی ریال کی قدر میں کمی کے ردِ عمل میں شروع ہوئے مظاہروں سے جڑا ہوا ہے۔ مظاہرے 28 دسمبر 2025 کو تہران کے گرینڈ بازار سے شروع ہوئے اور بعد میں دیگر شہروں تک پھیل گئے۔
ایرانی حکام نے ابھی تک ہلاکتوں کی سرکاری تعداد جاری نہیں کی اور بعض حکام نے امریکہ اور اسرائیل پر اس انتشار کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے۔













