پاکستان تحریکِ انصاف کے سابق رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے بلاول بھٹو زرداری کو کھلا خط لکھ کر سندھ حکومت اور وزیرِ اعلیٰ سندھ کے مزارِ قائد پر پی ٹی آئی کے عوامی جلسے کے ابتدائی فیصلے سے یوٹرن لینے پر تشویش کا اظہار کیا۔ مروت نے خط میں جمہوری رویے اور تاریخی سیاسی اصولوں کے احترام پر زور دیا ہے۔
محترم جناب
بلاول بھٹو زرداری صاحب@BBhuttoZardari
چیئرمین، پاکستان پیپلز پارٹی
السلام علیکم
یہ خط میں نہ کسی سیاسی مخاصمت کے جذبے سے لکھ رہا ہوں اور نہ کسی اشتعال انگیزی کے ارادے سے، بلکہ ایک سنجیدہ، فکرمند اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے شہری اور سیاسی کارکن کی حیثیت سے آپ کی…— Sher Afzal Khan Marwat (@sherafzalmarwat) January 10, 2026
شیر افضل مروت نے خط میں کہا کہ مزارِ قائد پر جلسے کی اجازت دینے کا ابتدائی فیصلہ جمہوری رویے کی مثبت مثال تھا، لیکن فوری یوٹرن لینے سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ جمہوری فیصلے وقتی دباؤ کے سامنے ضائع ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی جماعت کے پرامن اجتماع کو روکنے کے اقدامات نہ صرف ریاست کے مفاد میں نہیں بلکہ سیاسی استحکام کے لیے نقصان دہ بھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کراچی کا شیر افضل مروت کی گرفتاری کے لیے پولیس کے چھاپے کا الزام
مروت نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ملاقاتوں اور تقریروں کی اچانک منسوخی کو بھی تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات ادارہ جاتی خودمختاری اور اظہارِ رائے کی آزادی پر سوالیہ نشان ہیں۔

خط میں مروت نے پیپلز پارٹی کی تاریخی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج پارٹی کو وہ رویہ اپنانا فکری اور اخلاقی تضاد ہوگا، جو اس نے کبھی خود برداشت کیا۔ انہوں نے بلاول بھٹو سے اپیل کی کہ اختلافات کو جمہوری اصولوں کے مطابق جلسوں اور عوامی اجتماعات کے ذریعے سامنے آنے دیا جائے تاکہ سندھ اور پورے پاکستان میں جمہوری روایت برقرار رہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کا 8 فروری کو کوئی شو نہیں ہوگا، یہ پہیہ جام ہڑتال کی صلاحیت نہیں رکھتے، رانا ثنااللہ
مروت نے اختتام میں کہا کہ قوم بلاول بھٹو کو محض پارٹی کے چیئرمین کے طور پر نہیں بلکہ ایک قومی رہنما کے طور پر دیکھ رہی ہے، اور ان کے فیصلے ملکی سیاسی کلچر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔














