پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جدہ میں او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس میں کہا ہے کہ صومالی لینڈ صومالیہ کا نا قابل تردید حصہ ہے اور کوئی بھی بیرونی طاقت اس حقیقت کو بدلنے کا حق نہیں رکھتی۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر خارجہ کے اس دورے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے صومالیہ کی خودمختاری، اتحاد اور سرحدی سالمیت کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
Deputy Prime Minister / Foreign Minister, Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 inaugurated new chancery building of the Consulate General of Pakistan in Jeddah today. The ceremony was attended by Ambassador Ahmed Farooq, Consul General Syed Mustafa Rabbani, Saudi dignitaries,… pic.twitter.com/M4E6EyWeLS
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) January 10, 2026
جدہ میں منعقدہ او آئی سی کے اجلاس میں اسحاق ڈار نے عالمی سطح پر امن، تحفظ اور مختلف ممالک میں ترقیاتی و ادارہ جاتی اقدامات کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو غیر قانونی اقدامات اور ذاتی مفادات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات سے خبردار رہنا چاہیے اور ترقی یافتہ ممالک اور اداروں کے تعاون کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا متنازع فیصلہ کیوں کیا؟ٖ
نائب وزیر اعظم نے افریقہ اور ایشیا میں جاری چیلنجز پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک میں انسانی اور اقتصادی نقصانات، ادارہ جاتی کمزوریاں اور ترقیاتی منصوبوں کی ناکامی قابلِ فکر ہیں۔ صومالیہ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں وفاقی حکومت نے صلح، آئینی اصلاحات اور ریاستی اداروں کے قیام میں ابھی تک قابلِ ذکر پیشرفت نہیں کی۔

انہوں نے زور دیا کہ صومالیہ میں استحکام اور ترقیاتی اقدامات کی حمایت ہر ملک کے لیے ناگزیر ہے اور کسی بھی غیر ذمہ دارانہ اقدام سے نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ مقامی عوام کی مذہبی آزادی، ترقی اور خطے میں امن و تحفظ کے امکانات بھی متاثر ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا متنازع فیصلہ کیوں کیا؟ٖ
اسحاق ڈار نے او آئی سی کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ امن، ترقی اور متنوع معاشرتی ڈھانچے کی حفاظت کے لیے فعال کردار ادا کریں اور کسی بھی غیر قانونی یا خطرناک اقدام سے خطے کی مجموعی ترقی اور تحفظ کو خطرے میں نہ ڈالیں۔











