عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) کی نجکاری کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے ملک میں کاروباری شعبے میں سرکاری مداخلت کو کم کرنے کی کوشش اور اقتصادی اصلاحات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔
آئی ایم ایف کے پاکستان میں نمائندے نے عرب نیوز کو بتایا کہ قومی ایئر لائن کی نجی ملکیت میں منتقلی 7 بلین ڈالرز کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (EFF) کے تحت کیے گئے اہم وعدے کی تکمیل ہے۔
مزید پڑھیں: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پی آئی اے کے 650 ارب روپے کے قرض کو ’بلیک ہول‘ قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں مددگار ہوگا تاکہ طویل المدتی اقتصادی ترقی ممکن ہو سکے۔
پی آئی اے کے 75 فیصد حصص ایک کنسورشیم کی قیادت میں عارف حبیب گروپ کو فروخت کیے گئے ہیں، جس کی مالیت 135 ارب روپے (قریباً 486 ملین ڈالر) ہے۔ یہ دوسری کوشش تھی جو پچھلے سال کی ناکامی کے بعد کامیاب ہوئی، جس کی وجہ آپریشنل حالات میں بہتری اور یورپی یونین و برطانیہ کی پروازوں پر عائد پابندیاں ہٹانا تھا۔
حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، سرکاری ادارے مالی دباؤ میں ہیں۔ کیبنٹ کمیٹی برائے سرکاری اداروں کے مطابق، پاکستان کے SOEs نے 2024-25 میں 122.9 ارب روپے (قریباً 442 ملین ڈالر) کا خالص نقصان ریکارڈ کیا، جو پچھلے سال کے 30.6 ارب روپے کے نقصان سے قریباً 300 فیصد زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ کا اجلاس: وزیراعظم کا پی آئی اے کی نجکاری اور معاشی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار
نجکاری سیاسی طور پر حساس موضوع ہے اور ملازمتوں کے نقصان کے خدشات کے باعث تنقید کا سامنا ہے، تاہم ماہرین اور بین الاقوامی اداروں کا کہنا ہے کہ نجی شعبے کی مینجمنٹ کارکردگی اور سروس کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔
a














