کرد قیادت والی شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے حلب کے شیخ مقصود اور اشرفیہ علاقوں سے انخلا کر دیا، جس کے بعد شامی حکومت نے شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ امریکی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی اور محفوظ انخلا ممکن ہوا، تاہم شمال مشرقی علاقوں میں ایس ڈی ایف کی خودمختاری برقرار ہے۔
Syria’s Kurdish fighters agree to leave Aleppo after days of deadly clashes
➡️ https://t.co/os4Fez9Frd pic.twitter.com/lzuXDC4LoQ— FRANCE 24 English (@France24_en) January 11, 2026
شام کے شہر حلب سے کرد قیادت والی شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے شیخ مقصود اور اشرفیہ علاقوں سے مکمل انخلا کر دیا ہے۔ حلب کے گورنر عزام الغریب کے مطابق شہر اب SDF جنگجوؤں سے خالی ہے اور سیکیورٹی فورسز نے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حلب میں جھڑپیں جاری، شامی حکومت کی شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت
ایس ڈی ایف کمانڈر مزلوم عبدی نے بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی اور محفوظ انخلا کی تصدیق کی، جس میں شہریوں اور زخمیوں کی منتقلی بھی شامل تھی۔ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب SDF کو قومی فوج میں ضم کرنے کے معاہدے پر عملدرآمد ناکام رہا۔
لڑائی کے دوران کم از کم 30 افراد ہلاک اور 1.5 لاکھ سے زائد بے گھر ہوئے۔ امریکی ثالثی کے بعد یہ معاہدہ ممکن ہوا کیونکہ واشنگٹن کی SDF اور شامی حکومت کے ساتھ قریبی روابط ہیں۔

ایس ڈی ایف شمال مشرقی علاقوں میں تقریباً ایک چوتھائی علاقے پر قابض ہے اور اس میں 50,000 تا 90,000 جنگجو شامل ہیں۔ حلب میں انخلا کے بعد وقتی سکون قائم ہوا ہے، تاہم SDF کی مکمل ضم شدگی کے امکانات ابھی بھی غیر یقینی ہیں۔













