سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) نے بھارتی حکومت کی ہدایت پر 3500 فحش پوسٹس بلاک اور 600 اکاؤنٹس ڈیلیٹ کر دیے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ایکس نے حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ پلیٹ فارم پر فحش مواد کی اجازت نہیں دے گا اور حکومتی قوانین پر عمل کرے گا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی جب الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے ایک ہفتہ قبل ایکس پر موجود فحش مواد، خصوصاً اے آئی سروس ’گروک‘ کے مبینہ غلط استعمال پر نوٹس جاری کیا تھا۔ وزارت نے ایکس کو 72 گھنٹوں میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ عدم تعمیل کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: خواتین اور بچوں کی نازیبا تصاویر، گروک کے خلاف دنیا بھر میں تحقیقات کا مطالبہ
وزارت کے مطابق صارفین گروک کا استعمال کرتے ہوئے خواتین کی فحش، نازیبا اور توہین آمیز تصاویر اور ویڈیوز تیار اور شیئر کر رہے تھے۔ حکام نے کہا کہ یہ عمل خواتین کی تضحیک کے مترادف ہے اور قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
X Blocks Content, Will Delete 600 Accounts Over Grok Obscene Images Row: Government Sourceshttps://t.co/j9Ck7YVOPA@akhileshsharma1 reports pic.twitter.com/DNcsEomgXG
— NDTV (@ndtv) January 11, 2026
حکومتی نوٹس میں ایکس کو ہدایت دی گئی کہ وہ گروک کے تکنیکی اور گورننس نظام کا جامع جائزہ لے اور سخت پالیسیوں پر عمل کرے، جن میں خلاف ورزی کرنے والے صارفین کے اکاؤنٹس کی معطلی اور مستقل بندش شامل ہے۔
وزارت نے خبردار کیا کہ اگر ایکس نے ہدایات پر عمل نہ کیا تو اسے آئی ٹی ایکٹ کی شق 79 کے تحت سیف ہاربر کا تحفظ کھونا پڑ سکتا ہے اور بھارتیہ نیائے سنہتا، خواتین کی فحش نمائندگی ایکٹ اور بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:گروک اے آئی تنقید کے نشانے پر، لوگ ناراض کیوں ہیں؟
نوٹس میں واضح کیا گیا کہ یہ معاملہ صرف جعلی اکاؤنٹس تک محدود نہیں بلکہ ان افراد کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جو پرامپٹس، تصویر سازی اور مصنوعی مواد کے ذریعے خواتین کی تصاویر یا ویڈیوز شائع کر رہے ہیں، جسے اے آئی ٹیکنالوجی کا سنگین غلط استعمال قرار دیا گیا ہے۔














