ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا ہے کہ گرین لینڈ کے مستقبل کے حوالے سے ان کا ملک ایک ‘فیصلہ کن لمحے’ سے گزر رہا ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر آرکٹک خطے میں واقع اس خود مختار علاقے پر طاقت کے ذریعے قبضے کی دھمکی دی ہے۔
واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں سے قبل، جہاں اہم خام معدنیات پر عالمی مقابلے پر بات چیت متوقع ہے، فریڈرکسن نے کہا کہ گرین لینڈ پر ایک تنازع موجود ہے اور اس کے اثرات محض اس علاقے کے مستقبل تک محدود نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: ’پہلے گولی بعد میں بات‘، ڈنمارک کی امریکا کو سخت وارننگ
ڈنمارک کے دیگر سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ایک مباحثے میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ فریڈرکسن نے فیس بک پر اپنے بیان میں کہا کہ ڈنمارک ‘اپنی اقدار کے دفاع کے لیے تیار ہے، جہاں بھی ضرورت ہو حتیٰ کہ آرکٹک میں بھی’۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈنمارک بین الاقوامی قانون اور عوام کے حقِ خود ارادیت پر یقین رکھتا ہے۔
جرمنی اور سویڈن نے بھی ٹرمپ کے تازہ دعوؤں کے خلاف ڈنمارک کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ سویڈن کے وزیرِاعظم اُلف کرسٹرسن نے امریکی ‘دھمکی آمیز بیانات’ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا گرین لینڈ پر قبضہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگا اور اس سے دیگر ممالک کو بھی ایسے اقدامات کی ترغیب مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’ٹرمپ نے گرین لینڈ پر ممکنہ فوجی حملے کی منصوبہ بندی کا حکم دے دیا؟‘
کرسٹرسن نے ایک دفاعی کانفرنس میں کہا کہ سویڈن، دیگر نورڈک ممالک، بالٹک ریاستیں اور کئی بڑے یورپی ممالک ڈنمارک کے ساتھ کھڑے ہیں۔
جرمنی نے بھی واشنگٹن میں ہونے والی بات چیت سے قبل ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حمایت دہرائی۔ جرمن وزیرِ خارجہ جوہان ویڈہپل نے آئس لینڈ میں گفتگو کے دوران کہا کہ آرکٹک کی سلامتی نیٹو کے مشترکہ مفادات کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔
برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے مطابق، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کے فوجی حکام گرین لینڈ کے لیے ممکنہ نیٹو مشن پر ابتدائی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس میں روس اور چین کے خطرات کے پیش نظر فوجی دستے، جنگی جہاز اور طیارے تعینات کرنے کی تجاویز شامل ہو سکتی ہیں۔
برطانیہ کی وزیرِ ٹرانسپورٹ ہیڈی الیگزینڈر نے کہا کہ آرکٹک میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو روکنے کے لیے اتحادی ممالک کے درمیان مشاورت معمول کی بات ہے کیونکہ یہ خطہ تیزی سے جغرافیائی سیاست کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کوئی ہمیں حکم نہیں دے سکتا کہ کیا کرنا ہے، کیوبن صدر کا ٹرمپ کی دھمکی پر سخت ردعمل
بیلجیئم کے وزیرِ دفاع تھیو فرانکن نے بھی نیٹو پر زور دیا کہ وہ آرکٹک میں امریکی سلامتی خدشات کے پیش نظر ایک آپریشن شروع کرے اور اتحاد و طاقت کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے ‘آرکٹک سینٹری’ جیسے آپریشن کی تجویز دی، جس میں ڈرونز، سینسرز اور مشترکہ نگرانی شامل ہو۔
امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ روس اور چین کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے باعث گرین لینڈ پر کنٹرول امریکی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ تاہم، گرین لینڈ جو 1953 تک ڈنمارک کی نوآبادی تھا اور بعد ازاں اسے خود اختیاری ملی، وہاں کی عوامی رائے امریکی قبضے کی سخت مخالفت کرتی ہے۔














