۔
سعودی عرب کے معمر ترین شہری شیخ ناصر بن ردان آل رشید الوادعی 142 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
ان کا انتقال دارالحکومت ریاض میں ہوا، جس پر ملک بھر میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں شہریوں کی صحتمند طرز زندگی کا راز کیا ہے؟
شیخ ناصر بن ردان آل رشید الوادعی کی پیدائش سعودی عرب کے قیام سے قبل ہوئی تھی۔
انہوں نے جدید سعودی ریاست کے بانی شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن کے عہد سے لے کر موجودہ فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز تک مملکت کے تمام ادوار اپنی آنکھوں سے دیکھے۔
وفاة أكبر معمّر سعودي عن عمرٍ ناهز 142 عامًا #ظهران_الجنوب
انتقل إلى رحمة الله تعالى، اليوم، في العاصمة الرياض، أكبر المعمّرين في المملكة العربية السعودية الشيخ ناصر بن ردان آل رشيد الوادعي، عن عمرٍ ناهز 142 عامًا.
وقد خلّف الفقيد سيرةً عطرة وحياةً حافلة، عاصر خلالها توحيد… pic.twitter.com/clH1gvBorv— عوض فرحان آل المؤنس الوادعي "إعلامي" (@AWADFRHAN) January 7, 2026
ان کی طویل زندگی ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط رہی، جس دوران سعودی عرب نے نمایاں سیاسی، سماجی اور معاشی تبدیلیاں دیکھیں۔
شیخ ناصر بن ردان آل رشید الوادعی اپنی مضبوط شخصیت، خوش اخلاقی، دانائی اور معاشرتی معاملات میں صلح صفائی کے کردار کے باعث پہچانے جاتے تھے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب میں سرد ہوائیں، ملک کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی کا امکان
خاندانی ذرائع کے مطابق وہ دینی امور سے گہری وابستگی رکھتے تھے اور 40 سے زائد مرتبہ حج کی سعادت حاصل کرچکے تھے۔
مرحوم کے جنازے میں 7 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی، ان کی نمازِ جنازہ جمعہ کے بعد جامع الکبیر، ظہران الجنوب میں ادا کی گئی، جبکہ تدفین قریہ آل رشید میں عمل میں آئی۔
مرحوم کے پسماندگان میں 134 بیٹے، بیٹیاں اور پوتے پوتیاں شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: بحالی کے بعد 63 سمندری پرندے جدہ کے ساحل پر آزاد
بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے آخری نکاح 110 برس کی عمر میں کیا، جس کے بعد ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی۔
ان کے انتقال کی خبر نے سعودی سوشل میڈیا پر غیر معمولی توجہ حاصل کی، جہاں بڑی تعداد میں صارفین نے انہیں ایمان، حوصلے اور طویل عمر کے باوجود بھرپور زندگی گزارنے کی مثال قرار دیا۔













