بحالی کے بعد 63 سمندری پرندے جدہ کے ساحل پر آزاد

جمعہ 9 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب کے نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف ڈیولپمنٹ ںے بحالی کے بعد 63 سمندری پرندوں کو جدہ کے ساحل پر ان کے قدرتی مسکن میں آزاد کر دیا ہے۔

جنگلی حیات کے تحفظ اور ساحلی ماحولیاتی نظام کی پائیداری کے فروغ کی جاری کوششوں کے تحت آزاد کیے گئے پرندوں میں 34 بڑے سفید سر والے بگلے بھی شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں سرد ہوائیں، ملک کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی کا امکان

آزاد کیے گئے پرندوں میں 25 سفید سر والے بگلے، ایک مورہن، ایک ہیرون اور دو عبدِم کے سارس شامل ہیں، جنہیں دوبارہ جنگلی ماحول میں ان کے ماحولیاتی کردار کی ادائیگی کے لیے چھوڑا گیا ہے۔

نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف ڈیولپمنٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمد قربان نے بتایا کہ ان پرندوں کو منظور شدہ سائنسی طریقۂ کار کے مطابق مکمل بحالی کے عمل سے گزارنے کے بعد آزاد کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام جنگلی حیات کے تحفظ، ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور حیاتیاتی تنوع میں اضافے کے لیے مرکز کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: عالمی سائنسی مقابلوں میں سعودی عرب کی شاندار کامیابیاں، رپورٹ جاری

ڈاکٹر محمد قربان کے مطابق یہ منصوبہ بین الاقوامی سطح پر جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق وعدوں کی تکمیل میں مددگار ہے اور قومی ماحولیاتی حکمتِ عملی کے اہداف کو بھی تقویت دیتا ہے۔

مرکز کے قیام کے بعد سے جنگلی حیات کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے، ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے، خطرے سے دوچار انواع کو ان کے قدرتی مسکن میں دوبارہ متعارف کرانے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تحقیق اور حیاتیاتی تنوع کی نگرانی کے جامع منصوبے نافذ کیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ماؤ زے تنگ سے متعلق مبینہ مذاق، چین میں ایمباپے کی اسپانسرشپ ختم

اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان، انڈیکس میں 950 پوائنٹس سے زائد اضافہ

’اب تو عادی ہو چکا ہوں‘، ندا یاسر کی وائرل میمز پر یاسر نواز کا دلچسپ ردعمل

آن لائن بائیک رائیڈ کے دوران مبینہ ہراسانی، خاتون نے چلتی موٹر سائیکل سے چھلانگ لگا دی

اسٹار ٹریک میں پاول چیخوف کا کردار ادا کرنے والے والٹر کوئنیگ چل بسے

ویڈیو

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں