بنگلہ دیش فلسطین یکجہتی کمیٹی نے غزہ کے لیے مجوزہ بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس میں شمولیت کے حوالے سے عبوری حکومت کی اصولی دلچسپی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
بنگلہ دیش فلسطین یکجہتی کمیٹی نے اس حالیہ حکومتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اس اقدام سے فوری دستبرداری کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کا امریکا کو پیغام، غزہ مشن میں شامل ہونے پر آمادگی
اپنے ایک بیان میں کمیٹی کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی شمولیت فلسطینی عوام کے لیے بنگلہ دیش کی طویل عرصے سے جاری اخلاقی اور سیاسی حمایت کے منافی ہوگی۔
کمیٹی نے خبردار کیا کہ مجوزہ فورس کا بنیادی کردار اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانے کے نام پر غزہ میں فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنا ہوگا، جو دراصل فلسطینی مزاحمت کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔
#Palestine Solidarity Committee, #Bangladesh, today strongly condemned the interim government's interest, in principle, in joining the proposed International Stabilization Force for #Gaza.https://t.co/Jb74fHhl84
— The Daily Star (@dailystarnews) January 11, 2026
بیان کے مطابق کمیٹی کے رکن سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر محمد ہارون الرشید نے واشنگٹن میں حالیہ سفارتی رابطوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے سرکاری بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کے قومی سلامتی کے مشیر خلیل الرحمان نے واشنگٹن کے دورے کے دوران ایلسن ہوکر اور پال کپور سمیت اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقاتوں میں مجوزہ اسٹیبلائزیشن فورس میں ڈھاکہ کی دلچسپی سے آگاہ کیا۔
مزید پڑھیں: سینٹ مارٹن جزیرہ کا ماحولیاتی تحفظ، بنگلہ دیش کا سیاحت محدود کرنے کا فیصلہ
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ بنگلہ دیش کے عوام ہمیشہ فلسطینی عوام کی جدوجہدِ آزادی اور حقوق کے لیے یکجہتی کا اظہار کرتے آئے ہیں۔
کمیٹی نے عبوری حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسی اصولی مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے مجوزہ فورس میں کسی بھی قسم کی شمولیت سے گریز کرے۔
بیان کے اختتام پر بنگلہ دیش کی جانب سے فلسطینی کاز کی تاریخی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے پالیسی سازوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ عوامی جذبات اور قومی اقدار کے مطابق فیصلے کریں۔














