دنیا کی معروف اسمارٹ فون کمپنی ایپل ہمیشہ مقبول رہی ہے لیکن اس سال متعارف شدہ آئی فون 17 اور آئی فون 17 ایئر سیریز نے اس کی آمدنی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی فون 17 پاکستان میں اب بغیر سود کے قسطوں پر بھی ممکن، مگر کیسے؟
کاؤنٹرپوائنٹ کی پیر کو جاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ سنہ 2025 میں عالمی اسمارٹ فون کی ترسیلات میں سالانہ بنیاد پر 2 فیصد اضافہ ہوا جس کی وجہ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں بڑھتی ہوئی طلب اور اقتصادی رفتار ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایپل نے عالمی مارکیٹ میں 20 فیصد حصہ حاصل کیا جو سب سے زیادہ ہے اور یہ طلب میں مضبوطی اور آئی فون 17 سیریز کی فروخت کے باعث ممکن ہوا۔
مزید پڑھیے: کیا آئی فون 17 سیریز میں سم سلاٹ نہیں ہوگی؟
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مینوفیکچررز نے سال کے آغاز میں ترسیلات کو بڑھا کر ٹیرف سے آگے نکلنے کی کوشش کی لیکن سال 2025 کے وسط تک اس کا اثر کم ہو گیا اور سال کے دوسرے نصف میں ترسیلات کی مقدار تقریباً متاثر نہیں ہوئی۔
سام سنگ دوسرے نمبر پر رہا جس کا مارکیٹ شیئر 19 فیصد تھا جبکہ شیاؤمی تیسرے نمبر پر رہا جس کا حصہ 13 فیصد تھا اور جس کی بنیاد ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں مستحکم طلب ہے۔
مزید پڑھیں: وہ 7 ممالک جہاں آئی فون 17 کی قیمت پوری دنیا سے کم ہے
مزید برآں کاؤنٹرپوائنٹ کے تحقیقاتی ڈائریکٹر تارون پاتھک کے مطابق سنہ 2026 میں عالمی اسمارٹ فون مارکیٹ میں کمی متوقع ہے کیونکہ چپ کی کمی اور بڑھتی ہوئی اجزا کی قیمتوں کی وجہ سے چپ بنانے والے زیادہ تر بجائے موبائل ہینڈسیٹس کی جگہ اے آئی ڈیٹا سینٹرز کو ترجیح دے رہے ہیں ۔














