ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مظاہروں کے دوران امریکا ایران کیخلاف فوجی اقدامات پر غور کررہا ہے، سی این این کا دعویٰ
یہ بیان ٹرمپ کی بار بار کی دھمکیوں کے بعد سامنے آئے جنہوں نے کہا کہ ایرانی رہنما ان سے مذاکرات کے لیے رابطہ کر چکے ہیں لیکن ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ہمیں ملاقات سے پہلے بھی کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔
ایران میں اقتصادی مسائل کے خلاف مظاہرے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں اور نیٹ بلسکس کے مطابق ملک میں 84 گھنٹوں سے زائد کا تقریباً مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ ہے۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کو تہران میں غیر ملکی سفیروں کے کانفرنس میں بتایا کہ ایران جنگ کا متلاشی نہیں ہے لیکن جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک مذاکرات کے لیے بھی تیار ہے بشرطیکہ یہ مذاکرات منصفانہ، مساوی حقوق پر مبنی اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہوں۔
مزید پڑھیے: ایران میں کشیدہ صورت حال کے دوران وہاں موجود پاکستانیوں کو کیا کرنا چاہیے؟ سفارتکار نے اہم ہدایات جاری کردیں
مواصلاتی چینلز کھلے ہیں
ایران کے وزیر خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغائی نے بتایا کہ عراقچی اور ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان رابطے جاری ہیں حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان رسمی سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
عمان کے وزیر خارجہ نے بھی ہفتے کو تہران میں عراقچی سے ملاقات کی جس سے موجودہ سفارتی رابطوں کی تصدیق ہوتی ہے۔
مظاہروں پر کریک ڈاؤن
ایران ہیومن رائٹس کے مطابق عوامی احتجاج کے دوران 2,600 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے اور کم از کم 192 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
سرد موسم اور برف باری نے مظاہرین کی مشکلات میں اضافہ کیا جبکہ انٹرنیٹ کی پابندیاں آزاد تصدیق کو محدود کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران میں احتجاجی مظاہرے جاری: امریکا اور اسرائیل فسادات کرا رہے ہیں، عوام دور رہیں، صدر مسعود پزشکیان
ریاستی میڈیا نے سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی خبریں دی ہیں اور جنازے بھی سرکاری حمایت والے جلوس میں تبدیل ہوئے ہیں۔ حکومت نے مظاہرین کے خلاف فساد کا اعلان کرتے ہوئے 3 دن کا قومی سوگ منانے کا اعلان کیا۔
دہشتگردوں کے خلاف جنگ
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے مظاہروں کے خلاف کارروائی کو دہشت گردوں کے خلاف جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو اقتصادی، نفسیاتی، عسکری اور اندرونی دہشتگردی مخالف اقدامات سمیت 4 محاذوں پر جنگ کا سامنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایرانی فوج ٹرمپ کو ناقابل فراموش سبق دے گی۔
امریکی ردعمل اور فوجی آپشنز
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کی کارروائیوں کے جواب میں بہت مضبوط آپشنز دیکھ رہا ہے اور ایرانی قیادت نے مذاکرات کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا نے حملہ کیا تو اسرائیل اور امریکی اڈے محفوظ نہیں رہیں گے، ایران کی ٹرمپ کو دھمکی
امریکی حکام کے مطابق ممکنہ فوجی اقدامات میں مخالف گروپوں کی مدد، ایرانی فوج کے خلاف سائبر آپریشن یا مزید پابندیاں شامل ہو سکتی ہیں۔
چین کی رائے
چین نے ایران کے داخلی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔
مظاہرے جاری
مظاہرے ابتدائی طور پر بڑھتی ہوئی قیمتوں اور اقتصادی مشکلات کے خلاف شروع ہوئے اور تہران اور مشہد سمیت بڑے شہروں میں پھیل چکے ہیں۔
سوشل میڈیا پر دکھائی دینے والی ویڈیوز میں مظاہرین رات کے وقت مارچ کرتے، نعرے لگاتے اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ ٹکراؤ کرتے نظر آتے ہیں۔
ایرانی حکام نے امریکا اور اسرائیل پر مظاہروں کو ہوا دینے کا الزام لگایا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ کا ایران میں غیر فوجی اہداف پر حملوں پر غور، اسرائیل ہائی الرٹ
صدر مسعود پزشکیان نے مظاہروں کی مذمت کرتے ہوئے والدین سے کہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ان مظاہروں سے دور رکھیں۔













